ماہ رحمت کے لئے ملک گیر مہم


 ماہ رحمت کے لئے ملک گیر مہم


محترم جناب امام صاحب و متولیان اور ذمہ داران مساجد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہو ں گے۔
اللہ تعالی نے اپنے خاص فضل سے جناب والا کو محراب اور منبر نبوی ﷺ پر، اپنے نبی آخر الزماں کی نیابت اور اپنے دربار عالی (مسجد)اور وہاں آنے والے نمازیوں کی خدمت کی ذمہ داری کے لئے منتخب کیاہے،یقینا یہ عند اللہ بڑا اعزاز ہے، اس کے لئے دلی مبارک باد قبول فرمائیے۔
یہ بات بھی جناب والا کے علم میں ہو گی کہ جتنا بڑا منصب اور اعزاز ہوتاہے، اتنی ہی زیادہ انسان کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ نبی رحمۃ للعالمین ﷺ نے انسانیت کو جاہلیت سے نکال کر اسلام کے نظام،دین رحمت کے سایہ میں لانے کا، جو انقلاب دنیا میں برپا فرمایا، اس نظام رحمت میں مسجد کی حیثیت مملکت خداداد کے دارالخلافہ اور مرکز کی قرار دی ہے۔اس طرح مسجد کے ذمہ دار اس ذیلی ملک کے خیر و شر کے ذمہ دار اور امراء قرار پائے۔
اس ذمہ داری کا حق یہ ہے کہ مساجد کے ائمہ اورذمہ داران اپنے کو نہ صرف مسجدکی ضروریات، بلکہ مسجد کے حلقہ میں رہنے والے تمام انسانوں کے مسائل اوران کی خیر خواہی اور بھلائی کا، بلا تفریق مذہب و ملت خود کو ذمہ دار سمجھ کر اس کی ادائیگی کی فکر کریں۔
دین اسلام اللہ کی طرف سے قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لئے اللہ کی طرف سے ضابطہ حیات اور منتخب دین ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ان الدین عند اللہ الاسلام
ترجمہ:بے شک دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے
اور ساری ماؤں کو مامتا عطا فرمانے والے رحمن و رحیم رب کائنات نے، قیامت تک اس زمین پر بسنے والے ہر انسان کی طرف نبی رحمۃ اللعالمین کو مبعوث فرماکر صرف آپ کی ذات عالی،اور آپ کی سنت کو آئیڈیل، رول ماڈل اور اسوہ حسنہ قرار دیا، اور انسانی فطرت کا خیال کر تے ہوئے، ہر انسان کے لئے آپ کی ذات،آپ کا طرز حیات اور آپ کی سنت میں کشش،جاذبیت بلکہ آپ کی ذات سے جذباتی تعلق پیدا کرنے کے لئے، آپ کو رحمۃ للعالمین بناکردنیا میں بھیجا،اور خود اپنے ازلی و ابدی منشور قرآن مجید میں آپ کا ببانگ دہل تعارف کرایا:
وما ارسلناک الا رحمۃ للع المین
ترجمہ:اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت بناکر تمام جہانوں کے لئے
اب اگریہ انسانیت اپنی زندگی کو اللہ کی رحمت کے سایہ میں، خود اپنے لئے، اپنے اہل خانہ اور انسانیت کے لئے رحمت بناکر گذارنا چاہتی ہے، تو اس کے لئے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ نبی رحمۃ للعالمین کی نورانی حیات سے روشنی حاصل کرکے اس کی اتباع اور پیروی کرے۔ نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات،آپ کی نورانی حیات اور آپ کی سیرت ہی انسان کی زندگی کی نےّا کو دارین میں فلاح و کامرانی سے ہم کنار کرکے پار لگا سکتی ہے۔
اس کے لئے امت مسلمہ کو خیر امت کا لقب دے کر ائمہ اور ذمہ داران مساجدپر خصوصایہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ پوری انسانیت کے سامنے رحمۃ للعالمین نبی ﷺ کے دین حق،آپ کی تعلیمات اور رحمت بھری سیرت کا تعارف کرائیں،اور نبی رحمت کے ذریعہ لائے گئے، رحمت بھرے دستر خوان اسلام، پر ساری دنیا کے مدعوئین کو دعوت دیں۔
افسوس ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، اور ایسے رحمۃ للعالمین نبی ﷺ کا،جن کی پوری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ آپ کے دشمن انسان و جنات سے بڑھ کر پو ری مخلوق آپ کی رحمت سے محروم نہ رہی،آپ کا تعارف زیادہ سے زیادہ،ایک جنگی سپہ سالار کی طرح کرایاگیا،یا پھر یہ کہ وہ ایک ایسی قوم کے رسول یا نبی بتائے گئے جس کو مسلمان کہتے ہیں۔ دعوت سے ہماری مجرمانہ غفلت کی وجہ سے وہ امت جو ایسے نبی رحمت سے اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتی ہے، جس کے لئے نجات اور کامیابی، صرف نبی رحمۃ للعالمین کی پیروی میں قرار دی گئی ہے، اس قوم کا تعارف جاہل،گندی،ہشت گرد،اور لڑاکو قوم کی طرح ہو رہاہے۔اس سانحہ کے پس پشت جہاں شیطان اور باطل طاقتوں کی طرف سے غلط تشہیر کی مہم ہے، اس سے زیادہ ہماری دعوتی مجرمانہ غفلت اور نبی رحمۃ للعالمین کی سیرت اور آپ کی تعلیمات انسانیت کا تعارف نہ ہونا ہے،اور نبی اکرم ﷺ کی سنتوں کی اپنے قول،اور قول سے بڑھ کر گرد و نواح میں بسنے والے انسانوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرکے دعوت نہ دینا ہے۔
اللہ تعالی نے نبی ﷺ کواس دنیا کے ہر انسان تک، دین رحمت اسلام پہنچانے اوراس کی زندگی میں نافذکرنے کے لئے بھیجا تھا، اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے ہمارے نبی ﷺ مواقع تلاش فرماتے تھے، اورلوگوں کو متوجہ کرکے دین حق ان تک پہنچانے کے لئے مواقع پیدا بھی فرماتے تھے۔ اس کے لئے آپ ﷺ بازاروں میں جہاں ایک مقام پر بہت سے افراد تک بات پہنچانے کی آسانی ہوتی تھی، وہاں جاکر دعوت دیتے تھے۔ حج میں جودینی اور قومی اجتماع ہو تا تھا، اس اجتماع سے فائدہ

اٹھاکر، اقوام عالم تک حق پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے، عزیز و اقرباء کے لئے دعوت طعام کا نظم کرکے،مواقع پیدا فرماتے، اور کوہ صفا پر ”یاصباحاہ“ کی آواز لگا کر، جو اس وقت سب سے بڑا میڈیا تھا، لوگوں میں ”انا النذیر العریان“ کی صدا لگا کربات پہنچاتے۔
ماہ رواں ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے،کوئی تو بات ہے کہ تقدیر الٰہی نے اللہ کے آخری نبی کی ولادت با سعادت، آپ کی وفات،اور آپ کی حیات مبارک کی پوری دعوتی تحریک کی جان ہجرت کے واقعہ کے لئے ربیع الاول کو منتخب کیا۔ کسی نہ کسی درجہ میں دنیابھر کے انسان اس ماہ کو آپ کی ولادت با سعادت کی وجہ سے جانتے ہیں، کیا اچھا ہوتا کہ دعوت کے مواقع پیدا کرنے اور تلاش کرنے کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس بار ہم ماہ ربیع الاول کو ماہ رحمت(Compassion Month) کے طور پر متعارف کرائیں۔ اس کے لئے اول فرصت میں ہر مسجد میں ذمہ داروں کی ایک میٹنگ کرکے اپنے اپنے علاقہ کے ذمہ داروں کے لحاظ سے، اللہ کے نبی ﷺ کے دین، آپ کی رحمت بھری تعلیمات سے لوگوں کو متعارف کرانے کا ایک منظم پروگرام بنائیں، اور اس مہم میں اپنی جان،اپنا مال اوراپنا وقت لگاکر اپنے نبی ﷺ سے اپنی والہانہ محبت کا ثبوت،پیش فرمائیں۔
اس کے لئے پو رے ماہ کے، یا ہفتہ واری خاکے بنائے جائیں اور اس کو مساجدمیں یا کم از کم مساجدکی طرف سے،یا کم ازکم مساجدکمیٹیوں کے بینر کے نیچے انجام دیا جائے۔
مثال کے طور پر اس موضوع پر احادیث کے بینر اور کتبوں کے ساتھ، مدارس کے صاف ستھرے لباس میں طلباء اور نمازیوں کو ساتھ لے کر، محلہ اور گلیوں کی صفائی کا نظام بنایا جائے اور اسلام میں صفائی،نظافت اور طہارت کی تعلیمات پر مشتمل احکام و احادیث کا تعارف بھی ہندی اور انگریزی میں کرایا جائے۔ ایک روز میڈکل کیمپ اور مریضوں کی خدمت اور تیمار داری کے لئے ہفتے میں رکھا جائے۔ اس میں اس موضوع پر احادیث اور تعلیمات کاتعارف ہو، ایک دن کھانا کھلانے کا رکھا جائے، اور کھانا کھلانے کے فضائل پر تعلیمات نبوی کا تعارف کرایا جائے۔ ایک روز علم کے فضائل اور پڑھنے پڑھانے کے تعارف پر ہواور اس کے لئے مختصر پروگرام کئے جائیں۔ایک روز خدمت انسانیت کے لئے وقف کیا جائے، کچھ آٹو،یا ای رکشہ پر پورے دن کا خرچ دے کر مسافروں کے سفر کامفت انتظام کیا جائے، ایک روز راستہ کی صفائی اور ٹریفک کنٹرول کانظام بنایا جائے اور اس کے سلسلہ میں تعلیمات نبوی سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ اسی طرح اپنے محلہ کے علماء سے مشورہ کرکے پورے ماہ کا نظام بنایا جائے۔
اس پوری مہم میں ہدف اور مقصد یہ ہو کہ نبی رحمت ﷺ کی رحمت بھری تعلیمات،اور آپ کی روشن نورانی سیرت کا زیادہ سے زیادہ لوگوں تک تعارف ہو،اس کے لئے سارے پروگراموں کے ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا،فیس بک وغیرہ پر خوب وائرل کئے جائیں، اور علاقہ کے آئی ٹی ماہرین مل کر ایک خاکہ بنائیں کہ سوشل میڈیا کے واسطہ سے نبی رحمت ﷺ کا دین اور آپ کی تعلیم اور آپ کی سنت کیسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔
عاجزانہ درخواست ہے کہ پوری زندگی محض ایک بالشت کے پیٹ،اور موت سے پہلے کی عارضی زندگی کے لئے دوڑتے دوڑتے ہم لوگ تھک گئے ہیں، اب اس زندگی کے کچھ دن اس محسن نبی ﷺ کی محبت کا حق ادا کرنے کے لئے لگائیں، یہ مہم یا پروگرام محض اس لئے ضروری نہیں ہے کہ مسلمانوں خصوصا نبی رحمت ﷺ کا غلط تعارف،اور آپ کے خلاف ہر پروپیگنڈہ کا جواب دیا جاسکے، بلکہ صرف اور صرف نبی رحمت کی تعلیما ت اورآپ ﷺ کی نورانی زندگی کی اتباع انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت اور اس کی دارین کی فلاح کی ضمانت ہے، اس طرح نہ صرف یہ کہ ہم نبی رحمت ﷺ سے اپنی محبت بلکہ اپنے ایمان کا حق ادا کرکے دارین کی نجات کے حق دار ہو ں گے۔ بلکہ ہم انسانیت کا حق ادا کرکے، انشاء اللہ،اللہ کے نبی ﷺ کی شفاعت کے مستحق، اور پیارے نبی ﷺ کے قدموں میں جگہ ملنے کے امید وار بھی بن سکیں گے۔
اس کام کے لئے اگلے صفحات میں ایک خاکہ پیش کیا جا رہا ہے، جس کو ہمارے رفقاء اور کارکنان پوری دردمندی اور فکر کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں،اوراس پرپوری طرح عمل کی کوشش کررہے ہیں، اس خاکہ کے مطابق بھی اس پورے ماہ ربیع الاول کا نظام بنایا جا سکتا ہے، اور اس کی روشنی میں ضرورت کے مطابق اپنے لحاظ سے اس میں تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے۔ والسلام
خاک پائے خدام دین
محمد کلیم صدیقی

ماہ رحمت کے لئے ملک گیر مہم
اس مہم کا مقصد رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کو پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر پہنچانا ہے،اس کے ذریعے مختلف سماجی فلاحی کاموں کے ذریعے آپ کانہ صرف تعارف، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کی دعوت بھی دی جائے گی، چار ہفتوں کے چار مرحلے ہوں گے۔بارہ ربیع الاول کے دن خاص کچھ اعمال کیے جائیں گے۔انشاء اللہ

Post a Comment

Previous Post Next Post