حجاب کو بیچ میں لاکر ہندوستان کی بیٹیوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی

 


راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، ’’طلبا کی تعلیم کی راہ میں حجاب کو حائل کر کے ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ ماں سرسوتی سبھی کو تعلیم سے آراستہ کریں۔ وہ کسی میں امتیاز نہیں کرتیں۔‘‘ 

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، ’’طلبا کی تعلیم کی راہ میں حجاب کو حائل کر کے ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ ماں سرسوتی سبھی کو تعلیم سے آراستہ کریں۔ وہ کسی میں امتیاز نہیں کرتیں۔‘‘

ئی دہلی: کرناٹک میں کالج کی جانب سے مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کالج میں داخل نہیں ہونے دینے کے معاملہ میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب کے نام پر ہندوسان کی ان بیٹیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، ’’طلبا کی تعلیم کی راہ میں حجاب کو حائل کر کے ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ ماں سرسوتی سبھی کو تعلیم سے آراستہ کریں۔ وہ کسی میں امتیاز نہیں کرتیں۔‘‘

 

حال ہی میں کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے حجاب تنازعہ پر کہا تھا کہ طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دے کر اسکولوں کو میدان جنگ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول مقدس مقام ہے اور یہ ضروری ہے کہ یہاں پر سب کو برابری کا احساس ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کا موقف صاف ہے، یہ سب تعلیمی اداروں میں نہیں چلے گا۔

وزیر نے مزید کہا تھا کہ “ہم نے کہا ہے کہ ہم کمیٹی بنائیں گے جو اگلے تعلیمی سال تک حتمی رپورٹ دے گی اور حکومت اس پر سخت موقف اختیار کرے گی۔ وہ (طالبات) پہلے حجاب نہیں پہنتی تھیں اور یہ مسئلہ صرف 20 دن پہلے شروع ہوا۔”

 

وہیں، اپنے یوٹیوب چیل پر ’بیباک‘ نامی پروگرام کے دوران ابھیشار شرما نے مسلم لڑکیوں کو حجاب کے نام پر ہراساں کرنے کے معاملہ میں برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ مسلم لڑکیاں کالج جاتی ہیں اور انہیں کالج میں اس لئے نہیں داخل ہونے دیا جاتا کیونکہ انہوں نے حجاب پہنا ہوا ہے۔ کالج کے اصولوں میں ایسا کہیں نہیں لکھا گیا ہے کہ لڑکیاں حجاب پہن کر کالج نہیں آسکتیں۔ گڑگڑاتی ہوئی لڑکیوں کے منہ پر کالج کے پرنسپل دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی سکھ اپنی پگڑی لگا کر کالج میں داخل ہونا چاہے تو کیا آپ اسے روک دیں گے؟

دراصل کچھ دنوں پہلے کچھ ہندتواوادی طلبا نے گلے میں بھگوا رنگ کا کپڑا ڈال کر حجاب پہننے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ گزشتہ 7 سالوں میں میڈیا کا ایک طبقہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں کو جائز ٹھہراتا ہے۔ ایسا ہی تبلیغی جماعت کے معاملہ میں بھی ہوا۔

کبھی تبلیغی جماعت کے نام پر، کبھی اے ایم یو، کبھی جامعہ اور اب حجاب کے نام پر مسلم لڑکیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ صرف اس لئے کیوں کہ وہ ہندو مذہب سے تعلق نہیں رکھتیں۔ حال ہی میں سلی ڈیل اور بلی بائی نام کی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کو باقاعدہ نیلامی کے لئے پیش کر دیا تھا۔ یہ ملک کے لئے شرمناک ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post