جی آئ او _ اردھاپور یونٹ کی جانب سے آٹھ روزہ " یوم حیا" مہم منائ گئ

 



اردھاپور (شیخ زبیر ) "حیا ڈے" پر خطاب عام بعنوان "حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی" لیا گیا۔ حیا ڈے  جو کہ  ویلنٹائن ڈے کی مخالفت میں منایا جاتا ہے۔ ہم ویلن ٹائن ڈے جیسے بے ہودہ خرافات کی وجہ سے سماج میں پیدا ہونے والی برائیوں کے علاج کو "حیا ڈے"  کی صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ فحش کلچر کو فروغ دینے والے اس دن کی مخالفت کرتے ہوئے   عموما ہر سال پوری دنیا میں حیا ڈے منایا جاتا ہے۔ہمارے ہندوستانی کلچر پر داغ یہ برٹش کلچر جو آج ہمارے معاشرے میں اپنے عروج پر ہے۔آج سے چودہ سو سال پہلے کی گئی ایک انگریز کے عشق کی داستان ہے جو آج ایک فیسٹیول کی شکل لے چکی ہے جس میں کھلے عام غلط کام کیا جا رہا ہے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو چاہیے کہ ان گندی رسومات کے چکر میں پڑ کر اپنا مستقبل برباد نہ کرے اور جس مقصد کے لئے ان کے والدین انہیں تعلیم دے رہے ہیں اس پر توجہ دیں ورنہ اس کے بھیانک نتائج ہم کو دیکھنے کو ملتے  ہیں ۔ سماج سے ان ہی برائیوں کو ختم کرنے کے لیے جی آئ او   مختلف پروگرام تشکیل دیتی ہے تاکہ سوسائٹی آگے بڑھ سکے اور سماج  میں پھیلی ہوئی برائیوں کو ختم کر سکے ۔اسی سلسلے میں جی آئ او اردھاپور یونٹ کی جانب سے  ( 8فروری تا 13 فروری) آٹھ روزہ مہم چلائی گئ ،جس میں  ملی وطنی بہنوں کو اسلام میں حیا اور حجاب کا صحیح تصور بتایا گیا۔ 
  اسلام میں حیا کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں یعنی کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کو نہ دیکھے اور کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کو نہ دیکھیں ان سب برائیوں سے عورت کو  بچانے کے لیے اللہ نے پردہ یا حجاب کو عورت کے لئے ایک Safty cover  بنایا تاکہ ہم  اس  کے ذریعے اپنی حیا و عفت کی حفاظت کریں جی آئ او اردھاپور یہ اپیل کرتی ہیکہ مغربی کلچر کی اندھی پیروی نہ کرے بلکہ بھارتیہ سبھیتا  کو ساتھ لے کر چلے جس میں ایسے بے حیائی کے کام کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ 
مہم کے آخر میں ایک خطاب عام بھی رکھا گیا جس میں محترمہ ملیکہ فردوس باجی صاحبہ(حلقہ خواتین ناندیڑ) نے خطاب کرتے ہوئے حیا کے موضوع پر خواتین کی رہنمائ کی ۔ جی آئ او اردھاپور نے۔۔ کالج میں بڑھ رہی بے حیائ اور طالبات پر اس کے غلط اثرات کی طرف آگاہی کراتے ہوئے ایک ڈرامہ پیش کیا ۔ چلڈرن سرکل کی بچیوں نے ایکشن سونگ کے ذریعے حجاب کی اہمیت و افادیت کو واضح کیا ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post