"آئیے میں اور آپ اپنا جائزہ لیں۔"



ازقلم: صدیقی حنا کوثر توثیق الماس، معلمہ الہدیٰ اردو پرائمری اسکول، بیڑ(مہاراشٹر)

السلام علیکم ،محترم قارئین
 شکر الحمدللہ کہ ہم تمام نے نہایت ہی بابرکت اور مقدس مہینے کو پایا بھی اور اسے عید کی خوشیوں کے ساتھ الوداع بھی کہا ۔ہر ایک کی زبان پر ماہ رمضان کی آمد سے پہلے یہی بات تھی کہ کافی سخت موسم گرما ہو گا کیسے ہم رمضان گزاریں گے۔ لیکن ہم سب بہتر جانتے ہیں کہ وہ رحمٰن اور رحیم ہے اوربلا کسی عذر کے ہم تمام نے نہایت ہی خشوع و خضوع سے روزے بھی رکھے اور عبادات بھی کیں۔ صرف نوجوانوں نے ہی نہیں بلکہ معصوم بچوں اور ضعیف حضرات نے بھی صبر اور تقویٰ کے ساتھ روزے رکھے۔ ماہ رمضان اور بعد رمضان ہم کو اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ ایسا محسوس ہوا  اور میں نے اسے آپ تمام کے ساتھ شئیر کرنا چاہا۔ مجھے امید ہے کہ میری تحریر کردہ ایک ایک سطر آپ کو سوچنے پراور اپنا جائزہ لینے پر مجبور کر دے گی ۔سوچئے ذرا کہ ہم ( میں اور آپ)  کتنے گنہگار ہیں۔کیا ہم ( میں اور آپ) کبھی جھوٹ نہیں بولتے؟؟؟ کسی کی غیبت نہیں کرتے؟؟؟ کسی کی بات میں امانت میں خیانت نہیں کرتے؟؟؟ جی، یہ سب گناہ ہم سے ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے گناہ بخشوانے کے لیے رمضان جیسا بابرکت مہینہ نصیب فرمایا ہماری زندگیاں باقی رکھیں اور شب قدر کو تلاش کرکے اس میں گناہوں سے توبہ کا موقع عنایت فرمایا۔ اُس رب کا صرف اتنا ہی کرم نہیں ہے بلکہ پورے رمضان کے مہینے میں افطار کے وقت ہمارے دسترخوان سجے سجائے رہتے تھے۔انواع و اقسام کے پکوان اور پھلوں سے ہم راحت و سکون حاصل کر رہے تھے۔ مانا کہ بہت سارے غریب خاندان بھی تھے جہاں یہ سب کچھ نہیں تھا لیکن پھر بھی مہینے بھر میں کسی نہ کسی دن ان کے بھی دسترخوان ایسے ہی سجے سجائے تھے۔ کیا سہانہ سماں تھا کہ اذان کی آواز کے ساتھ ہی جوق درجوق لوگ اپنے کاموں کو ترک کرکے مسجدوں کی طرف رواں دواں تھے۔ خالی وقتوں میں ہاتھ میں قرآن اور زبان ذکر سے تر تھی۔ لیکن ذرا جائزہ لیں گے میں اور آپ کہ کیا اب بھی یہی عمل ہمارا  ہے!!!؟ افسوس ہے کہ عید کے بعد مسجدیں بھری ہوئی نہیں ہیں، صفیں آدھی ادھوری  ہیں۔ گھروں میں بھی وہ ماحول نہیں رہا ۔ہم یہ سب کیوں نہیں سوچتے کہ صرف رمضان ہی عبادات اور شکر گزاری کا مہینہ نہیں ہے بلکہ ہر دن عبادت اور ہر وقت شکرگزاری کا ہے۔ دیگر مہینوں سے رمضان کو فضیلت حاصل ہے۔ لیکن غور کریں  کیا دیگر مہینوں میں اللہ تعالی ہم کو خوشیوں سے محروم رکھتا ہے؟؟؟ نہیں رکھتا ہے۔ تو باقی دنوں میں ہم کیوں رب کی عبادت سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم چاہے کتنے ہی گنہگار کیوں نہ ہوں، لیکن وہ روز بروز ہمیں رزق عطا کرتا ہی ہے۔وہ اپنی رحمتیں برکتیں ہم پر برسائےجاتا ہے۔ تو کیوں ہم اُس کا شکر اور عبادت میں کوتاہی برتتے ہیں۔ اُس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں زندگی عطا کرکے مقدس ماہ رمضان عطا کیا تاکہ ہم اس کا شکر بجا لائیں ۔لیکن ہم میں سے کئی ایسے لوگ ہیں جو صرف رمضانی مسلمان بنے رہتے ہیں۔ اور اب جیسے تھے ویسے ہو گئے۔ رب تو وقت پر ہمیں ہر چیز دیتا جا رہا ہے تو پھر بعد رمضان ہم وقت پر نمازوں اور عبادات میں کوتاہی کیوں کر رہے ہیں؟؟ جو لوگ وقت پر عبادات اور نمازیں ادا کر رہے ہیں وہ قابل احترام ہیں اور جو اس پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔ (آمین) وہ اتنا رحیم ہے کہ اتنے گناہوں کوتاہیوں کے باوجود پھر سے ہمیں مقدس ماہ عطا کرتا ہے کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ اب تو میرا بندہ میری طرف لوٹے گا۔ اللہ مجھے اور آپ کو نیک ہدایت اور توفیق سے نوازے۔( آمین)

Post a Comment

Previous Post Next Post