ہمارے پاس بیچ کا راستہ نہیں، ہم خود کی تعمیر کے لیے کریں یا مریں گے: مولانا محمود مدنی


 

مولانا محمود مدنی نے کہا نے کہا کہ جمعیۃ اپنے نوجوانوں کو اس لیے منظم کر رہی ہے تاکہ وہ ملک، سماج اور انسانیت کے لئے مفید تر بن سکیں اور خود کے لیے بھی کارگر ہوں۔

نئی دہلی: جمعیۃ یوتھ کلب بھارت اسکاؤٹ اینڈ گائیڈ کا سہ روزہ مظاہرہ و مقابلہ پروگرام این وائی سی گدھ پوری ہریانہ میں منعقد ہوا۔ پروگرام میں ملک بھر سے جمعیۃ یوتھ کلب کے منتخب کردہ آٹھ سو نوجوانوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ واضح ہو کہ نوجوانوں کی تربیت کے لیے جمعیۃ نے ایک بڑی تحریک شروع کی ہے جس کا ہدف ایک کروڑ سے زائد نوجوانوں کو ٹریننگ دینا ہے تاکہ وہ دیش اور سماج کی خدمت کرسکیں۔ اس تحریک کے روح رواں جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی ہیں۔

ہمارے پاس بیچ کا راستہ نہیں، ہم خود کی تعمیر کے لیے کریں یا مریں گے: مولانا محمود مدنی

آج کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی نے کہا کہ نوجوانوں میں اگر فکر پیدا ہوجائے تو کسی قوم کے لیے اس سے بڑا سرمایہ کچھ اور نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیۃ اپنے نوجوانوں کو اس لیے منظم کر رہی ہے تاکہ وہ ملک، سماج اور انسانیت کے لئے مفید تر بن سکیں اور خود کے لیے بھی کارگر ہوں۔ انھوں نے کہا کہ صالح، مضبوط اور پختہ سماج بنانا اس قدر آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے بنیاد سے محنت کرنی ہوتی ہے، یہی کام ہم نے شروع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ہم نے بھارت اسکاؤٹ اور گائیڈ کو منتخب کیا ہے جو انسان کو انسان بنانے اور خدمت خلق کے لیے تیار کرنے کا کام کرتا ہے۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور پروگرام کے انعقاد کے لیے شیوانگی سکسینہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ایس ایس رائے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نارتھن ریجن بی ایس جی نے نوجوانوں کے فن کی ستائش کی اور جمعیۃ یوتھ کلب کے نوجوانوں کی محنت کی تعریف کی۔ شیوانگی سکسینہ جوائنٹ ڈائریکٹر نے اپنے خطاب میں حوصلہ کو اصل طاقت سے تعبیر کیا۔ قاری احمد اللہ رسول پوری نے جمعیۃ یوتھ کلب کی رپورٹ پیش کی۔

ہمارے پاس بیچ کا راستہ نہیں، ہم خود کی تعمیر کے لیے کریں یا مریں گے: مولانا محمود مدنی

اختتامی اجلاس میں اسٹیج پر قاری شوکت علی ویٹ، مولانا یامین، مولانا پیر خلیق صابر حیدر آباد، مولانا یحییٰ کریمی، مولانا کلیم اللہ قاسمی، مولانا قمر الدین، مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی یوپی، مفتی حسین بنگلور، قاری ذاکر مظفر نگر اور حافظ قاسم باغپت موجود تھے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post