بغیر تفصیلی صلاح و مشورہ اور جانچ کے پاس ہو رہے قوانین: چیف جسٹس آف انڈیا

 



ہندوستان کے چیف جسٹس این وی رمنا نے ہفتہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، زندہ اور سرگرم اپوزیشن حکمرانی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے اور حکومتی کارگزاری کو درست کرتا ہے۔



ہندوستان کے چیف جسٹس این وی رمنا نے ہفتہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، زندہ اور سرگرم اپوزیشن حکمرانی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے اور حکومتی کارگزاری کو درست کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ملک میں اپوزیشن کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ راجستھان اسمبلی میں ’پارلیمانی جمہوریت کے 75 سال‘ پر ایک تقریب کے دوران اپنے کطاب میں انھوں نے یہ باتیں کہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’خصوصاً اپوزیشن کے لیڈر ایک اہم کردار نبھاتے تھے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہت زیادہ آپسی احترام ہوا کرتا تھا۔ بدقسمتی سے اپوزیشن کے لیے جگہ کم ہو رہی ہے۔ ہم تفصیلی صلاح و مشورہ اور جانچ کے بغیر قوانین کو پاس ہوتے دیکھ رہے ہیں۔‘‘




چیف جسٹس رمنا نے کہا کہ ’’ایک مثالی دنیا میں یہ حکومت اور اپوزیشن کا فلاحی طریقہ کار ہے جو ایک ترقی پذیر جمہوریت کی طرف لے جائے گی۔ آخر کار پروجیکٹ ڈیموکریسی سبھی استفادہ کنندگان کی مشترکہ کوشش ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے کہا کہ پرامن اور مجموعی سماج کی تعمیر صرف عوامی حکمرانی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک سیاسی لیڈر کی بھی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سال پہلے، یومِ آزادی پر، انھوں نے بحث کے معیار میں گراوٹ اور کئی باری قانون ساز اداروں میں بحث کی کمی پر بھی اپنے نظریات ظاہر کیے تھے۔


بہرحال، چیف جسٹس این وی رمنا کا کہنا ہے کہ ’’اس موقع پر مجھے ایک مشورہ دینا ہے۔ قانون بنانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ سبھی اراکین اسمبلی کے قانونی ماہر ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ قانون سازیہ کے اراکین کو قانونی پیشہ وروں سے معیاری امداد حاصل ہو، تاکہ وہ مذاکرہ میں معنی خیز تعاون کرنے میں اہل ہو۔‘‘

Post a Comment

Previous Post Next Post