ہوشیار۔۔۔ ! خبردار۔۔۔!! الیکشن آنے والے ہیں۔۔





شیخ عمران 
ایڈیٹر ان چیف چوتھا ستون 

سیاسی ہلچل شروع۔۔۔
مہاراشٹرا کے کئی اضلاع میں کچھ ماہ بعد ہی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا سلسلۂ شروع ہونے والا ہے جس کی تیاریاں شروع بھی ہوچکی ہے. ہر سیاسی پارٹی کا لیڈر یہ دعوٰی کررہا ہے کہ اس مرتبہ ہماری پارٹی اقتدار پر قابض ہونگئ ۔ نئے ایکشن کے ساتھ نئے وعدوں کی فہرست بھی تیار کی جارہی ہے. سیاسی لیڈران سالگرہ کے بہانے مختلف پارٹیوں کے ذریعے لوگوں کو جمع کرنے کی فراغ میں ہے۔

*ہمارا تجربہ کیا کہتا ہے۔۔ ؟*
برسہا برس سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ ہر پارٹی کا امیدوار و سینئر لیڈر اپنے تشہیری مہم میں عوام سے بڑے بڑے وعدہ کرتا ہے اور جیت نے کے بعد ایسا غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ... پھر چار سال چھ ماہ بعد عوام کے درمیان آکر ظاہری کام انجام دیکر لوگوں کو اپنی طرف رجھانے کا کام شروع کردیتے ہیں۔

2017 ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھی ہر سیاسی پارٹی کے قائدین نے یہاں آکر بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ کسی نے کہاکہ ہم یہاں اچھے اسکولس و دواخانے قائم کریں گے تو کسی نے زمین نام کرکے دینے کا وعدہ کیا تو کسی نے ناندیڑ کی بےروزگاری کو کم کرنے کے لئے ناندیڑ کی سب سے قدیم عثمان شاہی مِل پھر سے چالو کرنے کی بات کی۔ کسی نے صفائی، سڑکیں، نالی الغرض بے شمار وعدہ کیے تھے مگر
ناندیڑ کی عوام کو حاصل کیا ہوا ؟؟


*غلطی کہاں ہورہی ہے۔۔؟*
 غلطی ہماری ہے. ہم نے ہمارے امیدوار کا انتخاب صحیح طرح سے نہیں کیا. کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی لیڈر شپ پر ہوتا ہے جس کے بغیر ترقی کی امید ایک خواب ہی ہوسکتی ہے.
آج ہمارے معاشرے کے لوگوں کی ناکامی کا نصف سبب اپنی صلاحیت کی پہچان کے بغیر ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وقت ضائع کرنا ہے

جن افراد میں لیڈر شپ کی کوئی خصوصیت اور صفت نہیں پائی جاتی وہ لیڈر بنے ہوئے ہیں ۔جس کی وجہ سے آج قوم بھی انتشار کا شکار ہے۔لسانی ،مذہبی،قومی اورعلاقائی تعصب میں گرفتار ہے۔ظلم وستم کی چکی میں پس رہی ہے۔جھوٹے ،فریب کار اور دھوکہ دینے والوں کے بنے ہوئے جالوں میں پھنس رہی ہے۔حقیقی لیڈر کے فقدان کی وجہ سے قوم خیرو شر ،حلال و حرام ، نفع و نقصان کی پہچان سے عاری ہو چکی ہے۔ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دینے والوں کو اپنا نمائندہ بنایا جاتا ہے۔
لیڈر کی ایک اہم خصوصیت بصیرت یعنی وژن ہوتا ہے ۔یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بصیرت رکھے بغیر کسی بھی گروہ یا جماعت کا لیٖڈر بننا ممکن نہیں اور بصیرت کا براہ راست تعلق مثبت سوچ اور مثبت بات کے ساتھ ہوتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ بصیرت میں ہم اپنی مثبت سوچ اور بات کو اگلے درجے تک لے جاتے ہیں ۔
لیڈر کی بصیرت نہایت اہمیت رکھتی ہے ۔کیونکہ اسی کی بدولت لوگوں کو جدوجہد کے لیے کوئی مقصد حاصل ہوتا ہے۔ایک ایسا مقصد جس کا تعلق حال سے نہیں مستقبل سے ہوتا ہے۔

*ہمارا لیڈر کیسا ہونا چاہیے۔ـ ؟*
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ظلم و بر بریت عام ہے۔
جہاں انصاف طاقت کے بل بوتے پر ملتا ہے ۔ایسے معاشرے میں ہمارا لیڈر کیسا ہونا چاہیے ـ ؟ ہمیں سوچنا ہے کہ معاشرے کے ان مایوس کن حالات میں ہم اپنی ووٹ کی طاقت سے کیسے لیڈر کو آگے لائیں گے ؟ ہمیں اپنی ہی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہے۔
ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے لوگوں سے مخلص ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم اسی وقت ایک حقیقی ،باکردار ،صالح و دیندار ،دلیر ،نڈر اور سچا لیڈر منتخب کر سکیں گے جو ہماری اُمنگوں کا ترجمان ہو گا اور جو ہمارے دلوں کی آواز ہوگا۔
Attachments area

Post a Comment

Previous Post Next Post