سال گرہ محض ہندوانہ رسم۔۔۔۔۔۔





محمد مصدق 
(معاوین مدرس )
جنتا شکشن پرسارک منڈل اردو ہائی اسکول پھولساونگی تعلقہ مہاگاں ایوت محل مہاراشٹر 


عبداللہ بن عمر سے روایت ہیکہ رسول اللہ نے فرمایا۔جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انھی میں سے ہے۔
(صحیح ابوداؤد )
برتھ ڈے منانا مبارکباد لینا اور دینا یہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔یہ بات ہم سبھی اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔پھر بھی برتھ ڈے منانے مبارکباد پیش کرنے کو قطعی برا نہیں جانتے۔برسوں سے میں اس تعلق سے سوچتا ہوں کہ امت میں سالگِرہ منانے کا چلن کسی طرح ختم ہو جائے ،بجائے ختم ہو نے یا کم ہونے کہ یہ رسم عام وخواص میں اتنی تیزی سے عام ہوچکی کہ اب اسکو منانا ضروری اور باعث فخر سمجھا جانے لگا۔۔
ہمارا ملک جو کہ ہندو اکثریت رکھتا یے جہاں سیاسی،سماجی،اور سادھوں سنتوں کی یوم پیدائش و یوم وفات منانے کا قدیم رواج رہا ہے۔اس سے کچھ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ انھوں نے اپنی زندگیوں میں جو کچھ بھی کارہائے نمایاں انجام دے ہوں اسے انکی یوم پیدائش و وفات کے موقع سے یاد کر کے اس سے تحریک لی جا سکے۔ 
لیکن ہمارے لیے ضروری نہیں کہ ہم انکی تقلید کریں۔
آج ہم دیکھتے ہیکہ برتھ ڈے منانا اور اس موقع پر ہزاروں روپے خرچ کرنا اتنا عام ہوچکا کہ ہر شخص کسی نہ کسی طرح اس میں ملوث ہوکر رہ گیا۔اگر کوئی اپنا برتھ ڈے نہ بھی منانا چاہیے تو اسکے دوست احباب اسے منانے پر مجبور کرتے ہیں ۔اس طرح ہم ایک دوسرے کے لحاظ کے چکر میں غیر اسلامی رسم کو اپناتے چلے جارے ہیں۔۔
تو آئیے۔
ہم سب ملکر معاشرے سے برتھ ڈے جیسی لعنت کاخاتمہ کریں۔۔۔
مانا کہ اندھیرا ہے گھنا
کس نے کہا دیا جلانا ہے من

Post a Comment

Previous Post Next Post