ڈھائی فٹ کا دولہا، 3 فٹ کی دلہن! 7 نومبر کو جانی ہے عظیم کی بارات، مگر وقت سے پہلے خاموشی سے ہو سکتا ہے نکاح

 





عظیم منصوری کی شادی کے قریب ہونے پر کیرانہ میں کپڑے کی دکان چلانے والے ان کے والد حاجی نسیم منصوری کا کہنا ہے کہ اب ان کی ایک بہت بڑی پریشانہ حل ہو گئی ہے، بارات 7 نومبر کو ہاپوڑ جائے گی

کہتے ہیں کہ ’’جب تم کسی چیز کو شدت سے چاہو تو ساری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔‘‘ کیرانہ کے عظیم منصوری کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ 27 سال کے ڈھائی فٹ کے عظیم منصوری وہی ہیں جو شاملی ضلع کے کیرانہ تھانہ میں اپنی شادی کرناے کے مطالبہ کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ عظیم منصوری نے ملک کے تمام عہدیداران سے اپنی شادی کی گہار لگائی تھی۔ بہت زیادہ زیر بحث رہے عظیم منصوری کو اپنے قد کی دلہن نہیں مل رہی تھی۔ آخر کار 3 فٹ کی ہاپوڑ کی رہنے والی 3 فٹ کی بشریٰ سے اس کا رشتہ طے ہو گیا ہے اور 7 نومبر کو نکاح ہونا ہے۔ تاہم چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ عظیم منصوری کا نکاح خاموشی کے ساتھ وقت سے پہلے ہی ہو سکتا ہے تاکہ کسی بھی طرح کی ہنگامہ آرائی سے بچا جا سکے۔ مہمانوں کو دعوت ولیمہ میں مدعو کیا جائے گا۔

عظیم منصوری کی شادی کے قریب ہونے پر کیرانہ میں کپڑے کی دکان چلانے والے ان کے والد حاجی نسیم منصوری کا کہنا ہے کہ اب ان کی ایک بہت بڑی پریشانہ حل ہو گئی ہے۔ بشریٰ سے عظیم کی سگائی طے ہو چکی ہے اور 7 نومبر کو خاندان کے ارکان اور قریبی رشتہ دار بارات لے کر ہاپوڑ جائیں گے۔ نسیم کا کہنا ہے کہ اس رشتہ کے لئے انہوں نے بہت مشقت کی ہے اور میڈیا نے ان کا کام بہت آسان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب عظیم اپنی شادی کے لئے گہار لگانے تھانہ چلا گیا تھا تو انہیں بہت برا لگا تھا۔ لیکن اللہ نے سب آسان کر دیا۔ عظیم ایک زندہ دل انسان ہے اور امید ہے کہ اس کا نکاح خیریت کے ساتھ مکمل ہوگا۔

عظیم کی ہونے والی دلہن بشری 23 سال کی ہیں اور ان کے والد جلال الدین کباڑی کا کام کرتے ہیں۔ وہ ہاپوڑ کے مجید پورہ محلہ کے رہائشی ہیں۔ جلال الدین کہتے ہیں کہ بشریٰ ان کی بڑی بیٹی ہیں اور بی کام کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ بشری کو تعلیم دلانے میں ان کی والدہ مومنہ نے اہم کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے مزدوری کر کے بشریٰ کو پڑھایا ہے۔ مومنہ کا کہنا ہے کہ وہ کافی پہلے سمجھ گئی تھیں کہ بشریٰ کا قد معمول سے کم رہے گا اس لئے انہیں لگا کہ بیٹی تعلیم یافہ ہوگی تو مستقبل کے لئے بہتر رہے گا۔ شادی بھی نہیں ہوگی تو ٹیوشن وغیرہ دے کر یا کوئی اور کام کر کے زندگی بشر کر لے گی۔ جوڑے جنت میں طے ہوتے ہیں اور یہی ہوا۔ مگر کہتے ہیں نہ کہ جوڑے جنت میں طے ہوتے ہیں اور وہی ہوا۔

عظیم منصوری اپنی شادی سے بہت خوش ہیں۔ بے چینی کی وجہ سے وہ رات بھر سو نہیں پا رہے۔ عظیم کہتے ہیں کہ انہوں نے بارات کے لیے شیروانی سلوائی ہے اور وہ ولیمہ کے دن تھری پیس شوٹ پہنیں گے۔ عظیم کا کہنا ہے کہ وہ ملائم سنگھ یادو کو اپنی شادی میں مدعو کرنا چاہتے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو کو دعوت نامہ بھیج رہے ہیں۔ عظیم کے پڑوسی وسیم احمد کا کہنا ہے کہ ان دنوں عظیم سارا دن گلیوں میں گھومتا ہے اور خوشی خوشی سب کو اپنی شادی کے بارے میں بتا رہا ہے۔ عظیم کے لیے سہرا ان کے بہنوئی آصف منصوری لے کر آئیں گے۔ آصف نے عظیم کی شادی کے لیے سب سے زیادہ کوشش کی ہے۔

عظیم کی شادی کے حوالے سے خاندان میں کچھ خدشات بھی ہیں۔ خاندان کے ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے وعدہ پر کہا کہ خاندان میڈیا میں پھیلی ہوئی افواہوں اور عظیم کی شادی کی حد سے زیادہ تشہیر سے بے چینی محسوس کر رہا ہے۔ جس لڑکی کی عظیم منصوری سے شادی ہو رہی ہے وہ انتہائی غریب لوگ ہیں، اب میڈیا میں جس طرح کی بحث چل رہی ہے اس سے ان کے گھر باراتیوں سے کھچا کھچ بھرنے کا امکان ہے۔ ہمارے رشتہ داروں کی عزت اب ہماری عزت ہے۔ خاندان میں یہ چرچا ہے کہ اس مشہوری سے بچنے کے لیے چار آدمی جا کر خاموشی سے بھی نکاح کر سکتے ہیں۔ کیرانہ میں دعوت ولیمہ پر اپنے تمام قریبی دوستوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عظیم کا خاندان بہت مذہبی ہے اور وہ عظیم کی شادی سنت طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، نیز وہ کسی کا دل بھی نہیں توڑیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post