مسلم تعلیمی اداروں کے یونیفارم پر غور و فکر کرنے کی ضرورت




از قلم:- فرح ناز عبدالرب فاروقی ناندیڑ

ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم لڑکیوں اور عورتوں کو پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے،  ایسی بہت ساری حدیث میں اللہ سبحانہ تعالی کے پیارے رسول پاک نے عورت کو مکمل پردے کی تاکید کی ہے۔ سر سے لے کر پیروں تک عورت کو چھپے رہنے کا حکم دیا ہے، اور آج بہت  کم ایسی عورتیں ہیں جو پردے میں رہتی ہے  ایسے عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو بے پردہ گھومتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی ایسی عورتوں کو نیک ہدایت عطا کرے۔

میرا آرٹیکل لکھنے کا مقصد "مسلم تعلیمی اداروں کے یونیفارم پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے"  یہ اسلئے ضروری لگا کیونکہ آج ہمارے مسلم لڑکے لڑکیاں جن مسلم اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں کیا وہاں کا یونیفارم ایسا ہے جس طرح نبی پاکﷺ  نے ہمیں پردے کا حکم دیا ہے۔  ہمارے اساتذہ اکرام لڑکیوں کو برفعے میں ضرور اسکول انے کو کہتے ہیں، لیکن  کیا وہ برفع ایسا ہے جیسا رسول اللہﷺ نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے؟  کچھ دن پہلے میں نے راستے پر مسلم اسکول کے لڑکیوں کو بس کا انتظار میں روڈ پر کھڑا دیکھا، بے شک وہ برفعے میں ہی تھی  لیکن وہ برفع اس طرح سے نہیں تھا جس طرح اسلام نے عورت کو پردہ  کرنے کا حکم دیا ہے۔  ان طلباء کا برقع گھٹنوں سے تھوڑا نیچے اور شلوار بھی چست پوری طرح سے پیروں کو چپکی ہوئی تھی۔
یہ کیسا برفع ہوا ہے؟ میرے سمجھ میں نہیں آیا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو تنگ کپڑے پہننے سے سخت منع فرمایا ہے۔ ہے اور یہ غلطی ہمارے مسلم تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور انتظامیہ کر رہے ہیں کیونکہ وہی لوگ ان لڑکیوں کو ایسا یونیفارم پہن کر آنے کے لیے کہتے ہیں۔ لڑکیاں راستوں سے Short  برفع اور چست شلوار پہن کر جا رہی ہے۔  ہزاروں غیر محرم کی نظر اس لڑکیوں پر پڑتی ہے یہ اتنا بڑا گناہ ہے، یہ بات چھوٹی سی لگ رہی ہے لیکن کیا یہ جانے انجانے میں گناہ نہیں ہو رہا ہے؟   ایک اور بڑا گناہ ہو رہا ہے کتنے غیر محرم  لڑکے اسکول بس میں ہوتے ہیں  اور ان لڑکوں کی نظر ان لڑکیوں پر پڑتی ہے، اور وہ گناہ کی طرف مائل مائل ہوتے ہیں۔  میں مسلم تعلیمی اداروں کے انتظامیہ اور اساتذہ کرام سے یہ ادباء گزارش ہے کہ اسلام کی بیٹیوں کی یونیفارم کو پوری طرح سے مکمل کرۓ، سر سے لے کر پاؤں تک مکمل برقع ہو اور  چست شلوار کے لیے سخت ممانعت کی جائے ۔  کیونکہ جب آپ یہ Action لینگے تو ہزاروں لوگ گناہ سے بچ جائیں گے۔  ایک عورت ہی ہوتی ہے جو مرد کو گناہ کی طرف لے جاتی ہے، لہذاآپ تمام مسلم تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ سے میری گزارش ہے کہ لڑکیوں کے یونیفارم کو سر سے پاؤں تک مکمل کرے۔  یہی لڑکیاں ہمارے مسلم سماج کا مستقبل ہے اگر یہی مکمل پردے کو نہیں سمجھ سکے گی تو آنے والی تمام نسلیں بھی بے پردہ ہو گی اور آپ سب جانتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بے پردہ عورت کو سخت نا پسند فرماتے ہیں۔

لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کے یونیفارم پر بھی غور و فکر کرنے والی بات ہے۔ اب آپ کو لگے گا لڑکوں کی یونیفارم میں کیا کروں فکر کرنے والی بات ہے؟ تو میں آپ کو بتاتی ہوں،  ہمارے مسلم لڑکے مسلم اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں، وہ بھی کوٹ پینٹ پہن کر۔ کوٹ پینٹ تو مغربی لباس ہیں۔ ہمارے مسلم لڑکے مغربی لباس پہن کر اسکول کیوں جاتے ہیں؟ یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ جو لڑکے مسلم ادارے میں تعلیم حاصل کرنے جا رہے ہیں،   ان لڑکوں کے یونیفارم دیکھ کر دیکھنے والے کو یہ سمجھنے میں دشواری ہوتی ہوگی یہ کون سے مذہب کا ہے؟ کیونکہ وہ کوٹ پینٹ پہن ہوا ہے۔ مسلم ادارے کے بچوں کا لباس ایسا ہونا چاہیے کہ دیکھنے والے کو کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ ہو کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھنے والے ہو۔ پیارے آقا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید رنگ کا لباس بہت پسند تھا (ترمذی) اسلام میں مرد کیلئے ہلکے رنگ کو زیادہ پسند فرمایا گیا ہے، جیسا کہ سفید رنگ، کیونکہ اس میں سادگی ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں جب بچے تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو کوٹ پینٹ پہن کر جاتے ہیں اور میرے حساب سے یہ کورٹ پینٹ  Fashion نظر آتا ہے اور تعلیم حاصل کرنے کی جگہ پر کوٹ پینٹ پہن کر جانا مجھے تو مناسب  نہیں لگتا۔ مسلم تعلیمی اداروں کے طلباء کو سفید رنگ کا کرتا پائجامہ اور سر پر ٹوپی بہت خوبصورت لگے۔  گی اور  یہ معیاری لباس بھی لگے گا، جو سادگی کے ساتھ ساتھ طلباء کے اندر عاجزی و انکساری پیدا کرے گا۔ میرا ایک چھوٹا سا جائزہ ہے جب بھی مسلم تعلیمی اداروں لڑکے کوٹ پہن کر اسکول کے لیے نکلتے ہیں ان کے چہروں پر عجیب سا انداز دیکھا ہے اور ان کے چہروں پر وہ سادگی نظر نہیں آتی  کیونکہ انسان جیسا لباس پہنے گا اس کا انداز بھی بدل جائے گا۔ یہ بات دوسروں کو نظر آیا ہو یا نہ ہو لیکن یہ میں نے غور کیا ہے پھر میں نے دارالعلوم کے چند بچوں کو راستے سے جاتے ہوئے دیکھا جو سفید کرتا پاجامہ پہنے ہوئے سر پر ٹوپی پہنے ہوئے راستے سے گزر رہے تھے تھے ان کے چہرے پر کچھ کیفیت تھی، چہرے پر عاجزی انکساری آواز میں نرمی میں اور سارے بچوں کی نگاہیں نیچے۔ پھر میں نے اسکول جانے والے تعلیمی اداروں کے بچوں کو بس کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا د جو کوٹ پہنے ہوئے تھے۔  بلند آواز میں بات کرنا گھمنڈ اور چہرے پر عجیب سی کیفیت  مانو ایسا لگ رہا تھا کہ "میں صرف میں"۔  میرا ماننا ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں کا سیدھا سادہ لباس (یونیفارم) ہوناچاہیے کیوں کہ سیدھا سادہ لباس اور خاص طور پر  سفید رنگ کا لباس انسان میں عاجزی اور نرم طبیعت پیدا کرتا ہے،  اور سفید لباس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند سد ہے۔ مسلم اداروں کے طلبہ وطالبات کو لے کر باقی لوگوں کی کیا سوچ ہے  میں نہیں جانتی لیکن میں نے اپنا نظریہ آپ سب کے سامنے رکھا ہے اگر میرا لکھا ہوا آرٹیکل صحیح ہے تو دوسروں تک بھی پہنچا دیجئے ۔اگر یہ آرٹیکل مسلم اساتذا اکرام پڑھ رہے ہیں تو میری اس سوچ کے بارے میں غور و فکر کر کے اس کے لئے کوئی بہتر فیصلہ لیجئے تاکہ مسلم معاشرے کے طلباء وطالبات سنت کی روشنی پر عمل کر کے خود کو روشن کرے اور آنے والے تمام نسلیں بھی دیندار بنے ۔

اللہ سے دعا ہے میرے لکھے ہوئے الفاظ کو پڑھنے والوں کو صحیح فیصلہ لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو سنت رسول کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے آمین

Post a Comment

Previous Post Next Post