قرآن مجید کتاب ہدایت ہونے کے باوجود بھی ملت ذلیل و خوار کیوں؟


 

اردھاپو ر میں خطاب عام سے حضرت مولانا سید آصف ندوی (صدر جمعت علماء ناندیڑ )کا عوام کے ہجوم سے خطاب

جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر مہم ـ’’ رجوع الی القرآن ‘‘ کے ضمن میں شہر اردھاپور میں جماعت اسلامی ہند اردھاپور نے مختلف سرگیوں کا انعقاد کیا ۔اسی ضمن میں ایک عظیم الشان خطاب عام درگا روڑ اردھاپور پر منعقد کیا گیا ۔پروگرام کا آغاز محترم نائب امیر  مقامی جما عت  اسلامی ہند اردھاپور جناب سلیمان خان صاحب کی تلاوت و ترجمانی سے ہوا۔بعد ازاں محترم امیر مقامی جناب عبداللہ خان صاحب نے افتتاحی کلیمات پیش کئے دوران گفتگو محترم نے ملگ گیر مہم ’’رجوع الی القرآن ‘‘ کی غرض و غایت پیش کی اور بتایا کہ جماعت ملت میں قرآن کے پیغام کو عام کر نا چاہتی ہے۔جماعت ملت کو قرآن پڑھنے ،سمجھنے اور اس پر عمل کرانا چاہتی ہے اسی مقصد کے تحت جماعت نے پورے ملک میں دس روزہ مہم ــــ’’رجوع الی القرآن ‘‘کا انعقاد

 کیا جو 14 اکتوبر تا 23 اکتوبر 2022 پورے ملک میں منارہی ہے۔ان کے بعد حضرت مولانا مفتی فرقان ملی صاحب (امام و خطیب مسجد بلال مسجد اردھاپور ) اور ہم خوار ہوئے تاک قرآں ہو کر اس عنوان کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔جس میں کہا کہ ہم نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا ہے جبکہ یہ قرآن ہمیں بلد مقام عطا ء کرنے کے لئے آیا تھا ۔قرآن کرم پورے انسانیت کی رہبری کرنے آیا تھا ۔محترم نے حضرت عمر فاروق کے قبول اسلام کے واقعہ سے قرآن کی اہمیت کو واضح کیا ۔ اور ملت سے اپیل کی کہ ملت اسلامیہ قرآن کو سمجھ کر ترجمہ و

 تفسیر سے قرآن کو پڑھنے کی کوشش کرے۔ان کے بعد اس خطاب عام کی اہم تقریر مہمان خصوصی جناب مولانا سید آصف ندوی صاحب (صدر جمعیہ علماء نا ندیڑ )نے بعنوان ’’قرآن میں ہو غوطہ زن ائے مرد مسلما ں کے تحت بہت اہم گفتگو کی دوران گفتگو میں محترم نے ارشاد فرمایا کہ قرآن ہمارا ساسہ ہے جس کو ہم نے بھلا دیا یہ ملت کا بہت بڑا المیا ہے اللہ  نے انسایت کی رہمنائی کے لئے کتابیں اتاری اور نبیوں کو بھیجا ۔قرآن مجید نازل کرنے کا اصل مقصد اس سے ہدایت حاصل کرنا ہے ۔جبکہ ایک انقلابی کتاب رکھنے کے باوجود بھی ملت آج

 زبو حالی کا شکار ہے۔اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف اللہ کی کتاب سے دوری ہے ۔ آخر میں آپ نے ملت سے اپیل کی کہ وہ اس معتبر کتاب سے اپنا رشتہ جوڑکر خود کو معتبر بنالے۔آخر میں صدارتی خطاب جناب سراج حسین صاحب (رکن جماعت ناندیڑ) نے پیش کیا ۔اس دوران آپ نے فرمایا تم سب اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو وہ کوئی اور رسی نہیں بلکہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے۔قرآن صرف تلاوت  کرنے کے لئے ہی نہیں آیا

 بلکہ قرآن سمجھنے سمجھانے اور عمل کرنے اور دنیا کے سارے مسائل کو حل کرنے کے لئے  آیا ہے ۔ہم اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیمات سے آراستہ کریں اور قرآن سے معتلق ان سے سوال بھی پوچھیں ۔ہم ملت کے سامنے سوال کریں کہ قرآن کیوں آیا ۔اگر مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے تو ہماری زندگیوں میں انقلاب پیدہ ہوگا۔ہمیں اس قرآن سے سوال پوچھنا چاہئے کہ میں کون ہوں؟ ،مجھے ان دنیا میں کیوں پید اکیا گیا؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ مجھے کس طرح زندگی گذارنی ہے؟ تو قرآن ہم کو جواب دیگا کہ ہم قرآن سے محبت

 کرنا سیکھیں ہم صاحب قرآن سے محبت کرنا سیکھیں ۔آخر میں اظہار تشکر برادر جاوید چودھری نے پیش کیا ۔اور محترم مولانا مفتی فرقان صاحب ملی کی دعاء سے اس خطاب عام کا اختتام عمل میں آیا۔اس پروگارم کی نظامت ڈاکٹر شیخ عتیق الرحمن صاحب نے کی ۔اللہ کی مدد و نصرت سے جماعت کے تمام ارکان و کارکنان  کے تعاون سے خطاب عام کامیاب ہوا۔ جس میں چار سو سے زائد ملت اسلامیہ نے شرکت کی۔ 


Post a Comment

Previous Post Next Post