”مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویدار شکیل بن حنیف اور اسکے متبعین شکیلی اپنے باطل عقائد کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں“



 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی اسعد قاسم سنبھلی کا خطاب!


بنگلور، 10/ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہؒ مرادآباد کے مہتمم فاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر حضرات صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع ہوا۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب کسی بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اصحاب رسولؐ نے انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار دیکر اسکے خلاف جنگ کئے۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی متعدد مرتبہ اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ”میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد قیامت تک کو نبی نہیں آئے گا“، اسی کے ساتھ آپؐ نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ”میری امت میں تیس (30)

 اشخاص کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا“۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آپؐ کی حیات طیبہ میں ہی مسلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تھا جس کے خلاف صحابہ کرام ؓنے جنگ کیا اور اسکا قلع قمع کیا، اسکے بعد وقتاً فوقتاً دنیا کے مختلف گوشوں میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو نبوت کا دعویٰ کرتے رہے، لیکن ختم نبوت کا موضوع اتنا واضح ہیکہ کسی کو براہ راست نبوت کا دعویٰ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی بلکہ جس کسی نے بھی دعویٰ کیا اسنے عیسٰی اور مہدی کا سہارا لیکر کیا یا تاویل کے ساتھ دعویٰ کیا۔ مولانا سنبھلی نے فرمایا کہ نبی کریمؐ نے قرب قیامت حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کی آمد کی بشارت دی ہے۔ لہٰذا اسلام کی تاریخ اور مدعی نبوت کے فتنوں پر اگر روشنی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ جس کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اس نے پہلے مہدویت اور مسیحیت کا سہارا لیکر کیا ہے۔ ماضی قریب کا سب سے بڑا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد

 قادیانی کا بھی یہی حال ہیکہ اس نے بھی پہلے مہدی، مسیح، ابراھیم،نوح اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت ایسے ہی جھوٹے مدعیان نبوت اور منکر ختم نبوت کے فتنوں نے امت کو گھیرا ہوا ہے، ہر آئے دن طرح طرح کے لوگ اٹھ کر کبھی مہدی، کبھی مسیح تو کبھی نبوت کا دعویٰ کرکے امت کے ایمان کو لوٹ رہے ہیں اور انہیں گمراہ کررہے ہیں۔مفتی اسعد قاسم سنبھلی نے فرمایا کہ انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ شکیل بن حنیف کا ہے، جو اس وقت ملک میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مفتی صاحب نے فتنہ شکیلیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ شکیل بن حنیف کی پیدائش دربھنگہ بہار میں ہوئی، وہ ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا اور وہیں پر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوا، لیکن ذہنی بگاڑ اور عہدہ کی ہوس کی وجہ سے اس نے بعض بھولے بھالے جماعت کے ساتھیوں کو اپنا ہمنوا بنانا شروع کیا اور پہلے مہدی پھر

 مہدی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے دہلی کے مختلف محلوں میں اپنی مہدویت ومسیحیت کی تبلیغ کی، لیکن ہر جگہ سے اسے کچھ دنوں کے بعد ہٹنا پڑا۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیل بن حنیف کا فتنہ امت کا بڑا بدترین فتنہ ہے، اسکی وجہ ہیکہ یہ شخص انتہائی سازشی اور خطرناک شخص ہے، جو ایسے سادہ لوح جدید تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں جو دین سے بلکل دور ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ شکیلی اپنی پوری سرگرمی کے ساتھ خفیہ انداز میں تحریک چلاتے ہیں اور ہمارے علاقہ میں ہی ہمارے نوجوانوں پر محنت کرتے ہیں اور ہم کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی، اور جب ایک بڑی تعداد گمراہ ہوجاتی ہے تو اس کے بعد یہ اسکی تشہیر کرتے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ ہماری ناواقفی یا بے خبری کی یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ 

مولانا سنبھلی نے تفصیل سے حضرت عیسٰی اور مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث میں وارد تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مہدویت و مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی۔ اس کے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ محض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے، نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل وصورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔ بہر حال شکیل بن حنیف اور اس کے متبعین راہ راست سے منحرف ہیں اور اسلامی مسلمہ عقائد کے منکر ہیں جن کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ مفتی صاحب نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ مہدی اور مسیح سے متعلق جو احادیث صحیحہ متواترہ ہیں ان احادیث کو اپنے اوپر چسپاں کرنے والا شکیل بن حنیف اور اسکے حواری جو شکیل کو مہدی یا مسیح مانتے ہیں وہ سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ امت مسلمہ کو یکجا ہوکر ان فتنوں کا تعاقب کرنا چاہئے، لوگوں کو قادیانی اور شکیلوں کے مکر و فریب سے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے واقف کروانا چاہئے۔


 انہوں نے فرمایا کہ اس سلسلے میں جلسے جلوس سے زیادہ زمینی سطح کی محنت درکار ہے، خاص طور پر عوام الناس کو زیادہ علمی بحث میں ڈالنے کی ضرورت نہیں بلکہ انکے سامنے صرف حضرت عیسٰی و مہدی علیہ السلام کا تعارف پیش کردیا جائے، ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت بیان کردیا جائے اور شکیل بن حنیف کی خباثت کو بیان کردیا جائے تو کافی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیکہ انہوں نے یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“  منعقد کیا، ختم نبوتؐ کی حفاظت کیلئے کوششیں کرنا کوئی معمولی خدمت نہیں ہے، 

کیونکہ عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری، اس کے ایمان کا تقاضہ اور آخرت میں شفاعت رسول ﷺ کا بہترین ذریعہ ہے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی پانچوں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پرفاتح شکیلیت حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post