”فتنوں کے اس دور میں ایمان بالخصوص عقیدہ ختم نبوتؐ کی حفاظت ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے!“


 

!مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا احمد ومیض ندوی کا خطاب

بنگلور، 10/نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے فرمایا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے، ہر سمت سے مختلف فتنوں کی یلغار ہے، انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے الحاد اور لادینیت کی شورشیں عروج پر ہیں۔ انہیں حالات کی پیشگوئی خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ ”فتنے ایسے گریں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں“۔ اور فرمایا تھا کہ ”فتنے رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائیں گے اور اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا“۔ لہٰذااگر ہم آج کے حالات پر طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہیکہ دور فِتن کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں وہ اب ظاہر ہوتی جارہی ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ آج ہر گھر تک بآسانی

 رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اور یہ ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جس سے پوری قوم کے افکار ونظریات متزلزل کئے جاسکتے ہیں، ان میں ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ افسوس کہ اس جدید ٹیکنالوجی پر باطل طاقتوں کا قبضہ ہے اور وہ اسکے ذریعے سے فتنوں کو بہت جلد پوری دنیا میں پھیلانے میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ بعض فتنے علاقائی ہوتے ہیں اور بعض عالمی ہوتے ہیں، انہیں میں سے ایک فتنہ قادیانیت کا فتنہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام کو یہودیت اور عیسائیت سے اتنا نقصان نہیں ہے جتنا کہ قادیانیت سے نقصان ہے کیونکہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کا نام لیکر انکے عقائد پر حملہ کرکے انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ اورہمارے لوگ ان منافقین کا ظاہر دیکھ کر ان پر بھروسہ کرلیتے ہیں۔

 مولانا ندوی نے فرمایا کہ قادیانی خاص طور دیہاتوں اور گاؤں کے غریب طبقے کے لوگوں کو مالی اور دیگر ذرائع سے امداد کرکے اپنی طرف مائل کرتے ہیں اور بعد میں انکے درمیان اپنے عقائد کو نظریات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنا امت کے ہر ایک فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ بنا کر بھیجا اور آپؐ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا، آپؐ کو وہ کتاب اور شریعت عطاء کی گئی جس کے بعد قیامت تک کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی ضرورت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان درحقیقت اس اُمت پر ایک احسان عظیم ہے، کیونکہ اگر آپؐ پر نبوت ختم نہیں ہوتی تو یہ امت بھی پچھلی امتوں کی طرح آزمائش میں مبتلا ہوجاتی۔ مولانا نے فرمایا کہ پچھلے زمانوں میں جب نئے نبی دنیا میں تشریف لاتے تو پچھلے نبی پر ایمان لانے والے نئے نبی پر ایمان لانے سے منع کردیا کرتے تھے، جس کے بعد ان پر عذاب مسلط کردیا جاتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہؐ پر کرم فرمایا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”خاتم النبیین“ بنا دیا اور آپ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما دیا، اس طرح سے امت 


ایک بڑی آزمائش سے محفوظ ہوگئی۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ ختم نبوت اعزاز ہے، ختم نبوت اللہ کا انعام ہے، ختم نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے، لہٰذا خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کے ساتھ آخری نبی ماننے والا ہی مسلمان ہے اور اسی پر امت کا اجماع ہے ہیکہ آپﷺ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نقشبندی نے فرمایا کہ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے ہم مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں بالخصوص اس فتنہ قادیانیت کا تعاقب کریں، اور اس فتنہ کے تعاقب، سد باب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کیلئے قصبات، گاؤں، دیہات کا دورہ کریں اور وہاں مساجد و مدارس اسلامیہ کا قیام کریں، نیز شہری مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ پسماندہ علاقوں میں مالی امداد اور ضروری سامان مہیا کرائیں، نیز معاشی اعتبار سے ان کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں تاکہ قادیانی قرض اور مالی وغیرہ کی امداد کے بہانے

 ان بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے جال میں نہ پھنسالے۔اسی کے ساتھ ضرورت ہیکہ ہمارے نوجوان اور طلبہ کرام بالخصوص جدید تعلیم حاصل کررہے طلبہ کرام کیلئے ترتیبی کیمپ لگائیں کیونکہ امت مسلمہ کے بیشتر نوجوان ایمانیات بالخصوص عقیدہ  ختم نبوت کی بنیادی اور اہم باتوں سے ناواقف ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اہل علم پر واجب ہے کہ وہ قادیانیت کا تعاقب کرکے اس کی بیخ کَنی کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھیں اور عوام الناس کو ان کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کی پوری کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے اس فتنوں کے دور میں سب سے سنگین مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں کے رد اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے یہ”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کیا۔اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت عطا فرمائے۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث شیخ طریقت حضرت مولانا سید احمد ومیض صاحب ندوی نقشبندی مدظلہ نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post