خلع میں شوہر کی رضامندی ضروری، کیرالہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ناقابل قبول: مسلم پرسنل لا بورڈ.


نئی دہلی:معتبر عالم دین وآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے  آج یہاں جاری ریلیز میں کہا کہ عدالت کا فریضہ ہے کہ شریعت اپلی کیشن ایکٹ 1937 میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی تشریح کرے اور جو معاملہ سامنے آئے اس کو اس پر منطبق کرے، نہ یہ کہ وہ اپنی طرف سے اس میں اضافہ کرے یا اپنے آپ کو اس میں ردوبدل کا مجاز سمجھے۔ اسلام میں شوہر وبیوی کے درمیان علیحدگی کے لئے تین طریقے متعین ہیں اور یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہیں، اول: طلاق، جس کا اختیار مرد کو دیا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ وہ اس کا بیجا استعمال نہ کرے، دوسرے: خلع، جس میں شوہر اور بیوی کی باہمی رضامندی سے طلاق واقع ہوتی ہے، اس صورت میں بھی بیوی یک طرفہ طور پر خلع نہیں لے سکتی، یہ بھی طلاق ہی کی ایک صورت ہے۔ البتہ اس میں شوہر وبیوی کی آپسی مفاہمت شامل رہتی ہے، تیسری صورت فسخ نکاح کی ہے، جو عدالت کے ذریعہ انجام پاتا ہے، اگربیوی علیحدگی چاہتی ہو اور شوہر طلاق دینے کو تیار نہ ہو تو اب کورٹ کے ذریعہ فیصلہ ہوتا ہ https://postly.app/1TBm

Post a Comment

Previous Post Next Post