رامپور: اعظم خان کا نام ووٹر لسٹ سے بھی خارج، بی جے پی امیدوار کی درخواست پر انتخابی افسر کی کارروائی



 رامپور: سیاسی اکھاڑا بنے رامپور کے ضمنی انتخاب کی گونج صوبہ کے ایوان، الیکشن کمیشن سے لیکر ملک کی اعلیٰ عدالت تک پہنچ گئی ہے مگر نتیجہ وہی اتا ہے جو بی جے پی لیڈر آکاش سکسینہ کی زبان سے نکل جاتا ہے۔ تازہ پیشرفت میں آکاش سکسینہ کی شکایت پر انتخابی افسر نے اعظم خان کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا ہے۔ آکاش سکسینہ کی ہی ایف آئی آر پر قائم ہونے والے مقدمہ میں سزا ملنے کے بعد اعظم خان کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ ہو گئی اور ان کے انتخابی میدان میں اترنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

رامپور اسمبلی سیٹ کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت ووٹر لسٹ سے ان کا نام ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ افسر نے یہ حکم رامپور سے بی جے پی امیدوار آکاش سکسینہ کی شکایت پر دیا ہے۔ آکاش سکسینہ نے بدھ کے روز ایس ڈی ایم صدر اور انتخابی رجسٹریشن افسر رامپور اسمبلی حلقہ نرنکار سنگھ کو ایک درخواست پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ اعظم خان پر انتخابی بدعنوانی کا الزام ہے، اس لیے ان کے ووٹ کا حق منسوخ کر دیا جائے۔


شکایت میں سکسینہ نے کہا تھا کہ اعظم خان کو اشتعال انگیز تقریر کرنے پر تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سزا الزامات ثابت ہونے کے بعد سنائی گئی ہے۔ ایسے میں اعظم خان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے رام پور اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ اعظم خان مجرم قرار پائے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 16 کے تحت مجرم کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں اعظم خان کا نام بھی ووٹر لسٹ سے نکال دینا چاہیے۔

خیال رہے کہک آکاش سکسینہ اور سماجوادی پارٹی کے قددوار لیڈر اعظم خان کے بیچ سخت سیاسی اور قانونی جنگ چل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ اعظم خان جن کا سیاسی حلقوں میں سکّہ چلتا تھا آج اس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ سزایافتہ ہونے کہ ساتھ ساتھ ووٹ کے حق سے بھی محروم ہو چکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ دیر سے انصاف کرنے کا الزام جھیلتے آ رہے اداروں نے اعظم خان کو سزا دینے اور صوبہ کے ایوان سے اُنکی رکنیت کو ختم کرنے سے لیکر ووٹ کا حق چھیننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔


یہ سوال ملک کی اعلیٰ عدالت نے یوپی حکومت کہ اسپیکر اور الیکشن کمیشن سے کیا بھی مگر اسکا جواب وہی ایا جو اعظم خان کہ مخالف چاہتے تھے اور رامپور میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ بی جے پی نے آکاش سکسینہ کو اپنا اُمیدوار بنایا ہے بلکہ ان کے حامیوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اعظم خان کو اس حال میں پہنچانے کا اُنہیں انعام ملا ہے۔

اس ضمنی انتخاب کہ اعلان کے بعد کسانوں نے پوسٹر بینر لگائے ہیں جن پر لکھا ہے کہ رامپور کا نام اُپ چناؤ نگر (ضمنی انتخاب نگر) رکھ دینا چاہئے کیونکہ لگاتار چار ضمنی انتخابات نے نہ صرف یوپی میں انتخابی ریکاڈ بنایا ہے بلکہ یہاں کی عوام کو بہ روزگاری اور اقتصادی پسماندگی کی غار میں دھکیل دیا ہے اس ضمنی انتخاب کہ خلاف احتجاج کر رہے کسانوں میں کوئی اس کے لئے اعظم خان کو ذمّہ دار ٹھہرا رہا ہے تو کوئی صوبائی حکومت کو کوس رہا ہے کہ حکومت اپنا فرض نبھانے کی بجائے مخالف سیاست دانو کو ختم کرنے میں لگی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post