صبر کی اہمیت اور اس کی صداقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے


 


فرح ناز بنت عبدالرب فاروقی ناندیڑ 
Msc(Software Eng)

 
صبر کیا ہے؟ مصائب و عالم مصیبتوں اور پریشانیوں پر شکوے کو ترک کردینا صبر ہے۔  مگر حقیقت یہ ہے کہ صبر کرنا مشکل کام ہے، کیونکہ اس میں مشقت اور کڑواہٹ پائی جاتی ہے، اس کو ختم کرنے کے لیے ایک اور صبر کرنا پڑتا ہے جس سے مصابرہ کہتے ہیں۔
جب بندہ مصابرہ کے درجے پر پہنچ جاتا ہے تو پھر صبر کرنے میں بھی لذت محسوس کرتا ہے، اس کی مثال حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صبر ہے۔  صبر ایک عظیم نعمت جو مقدر والوں کو نصیب ہوتی ہے،  صبر مقامات دین میں  سے ایک اہم مقام ہے اور اللہ تعالی کی ہدایت یافتہ بندوں کی منازل میں سے ایک منزل اور اوالعزم کی خصلت ہے۔ خوش قسمت ہے شخص جس نے تقوی کے ذریعہ ہوائے نفس پر اور صبر کے ذریعے شہوت نفس پر قابو پا لیا۔  صبر کی اہمیت اور افادیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے کے ہاں اس کا بے حساب اجر رکھا ہے۔  آج کا انسان دین سے دوری کی وجہ سے رب تعالیٰ کی حضوری، ایمان بالغیب یعنی مرنے کے بعد دنیا قیامت یوم حساب اور جنت و دوزخ وغیرہ کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنا سب کچھ اس دنیا میں پورا کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم خالق کائنات کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس دنیا میں صبر سے کام لیں تو ہمارے زیادہ تر مسائل خود بخود ہی حل ہو جائیں گے،  کیونکہ انسان معاشرے یا خاندان میں جس بھی حیثیت یا عہدے پر ہے ہیں ضروری نہیں کہ  وہ وہاں سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہوں جیسا وہ چاہتا ہے، جب کوئی کام انسان کی مرضی و منشا کے خلاف سرزد ہو تو یقینا انسان غصے میں آتا ہے اور بعض اوقات غصہ سے  مغلوب ہو کر اس سے کچھ ایسی حرکات سرزد ہوجاتی ہیں جو اس کی شخصیت کو داغدار بنا دیتی ہے۔

 دور جہالت کے مشہور شاعر اور قبیلے کے سردار امروالقیس سے کسی دوسرے قبیلے کے سردار نے پوچھا کہ آپ کا قبیلہ  آپ کی بڑی عزت و قدر کرتا ہے جبکہ وہ سب کچھ میں بھی کرتا ہوں جو تم کرتے ہو تو پھر تم میں ایسی کون سی بات ہے جو مجھ میں نہیں؟  امروالقیس میں جواب دیا کہ میں مشکلات برداشت کرتا ہوں اور انہیں کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیتا، جب کہ تم ایسا نہیں کرتے شاید یہی وجہ ہے کہ امروالقیس کا نام آج بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ صبر کرنے والوں کو اللہ تعالی کی معیت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے صبر سے مدد لینے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہتا کرو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے( البقرۃ 153) 

دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو مختلف طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر ان مشکلات کو اللہ تعالی کی رضا کے لئے برداشت کر لیا جائے تو ایسے سب صبر کرنے والوں کو اجر کی خوشخبری اللہ خود دیتا ہے۔  
فرمان الہی ہے " اور ہم ضرور بضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے ہر کچھ مال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے اور( اے حبیب) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادیں۔ جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں"
( البقرہ آیت 155، 156)

سورہ رعد کی آیت نمبر  122 میں رب کی رضا جوئی کے لیے صبر کرنے والوں کی آخرت میں حسین گھر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ "اور ہم نے اسے دنیا میں بھی بھلائی عطا فرمائے اور بیشک وہ آخرت میں بھی صالحین میں سے ہوں گے"۔ صبر تمام انبیاء کرام علیہ السلام کا خاصہ رہا ہے  سورہ الانبیاء کی آیت نمبر  85 میں ارشاد فرمایا:  اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو بھی یاد فرمائیں۔ یہ سب صابر ہوگئے تھے۔ اللہ تعالی نے سچے پرہیزگاروں اور شدائد آفات میں میں صبر کرنے والوں پر صبر کی شرط لگائی اور صبر کے ذریعے ہی انکی صداقت تقوی کو ثابت کیا اس سے ان کے اعمال صالحہ کو کامل کیا۔  فرمایا:" اور سختی تنگدستی میں اور مصیبت بیماری میں اور جنگ کی شدت جہاد کے وقت صبر کرنے والے ہو یہی لوگ سچ یہی پرہیزگار ہیں"۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعددار ارشاد میں صبر کی اہمیت و فضیلت کو واضح فرمایا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کی روایت حضرت سعدؓ   روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ؑمیں سب سے زیادہ سخت آزمائش کن کی ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام کی پھر درجہ بدرجہ اللہ تعالی کے مقربین کی، آدمی کے آزمائش اسکے   دینی مقام و مرتبہ (یعنی ایمانی حالت) کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین اور ایمان میں مضبوط ہو تو آزمائش سخت ہوتی ہے اگر دین و ایمان میں کمزور ہو تو آزمائش کی دینی اور ایمانی حالت کے مطابق ہلکی ہوتی ہے بندے پر یہ آزمائش ہمیشہ آتی رہتی ہے جب تک (مصائب پر صبر کی وجہ سے اسے یوں پاک کر دیا جاتا ہے) وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر گناہ کا کوئی بوجھ باقی نہیں رہتا۔ دنیا میں مشکلات  پر صبر کرنے والوں کو قیامت کے دن اللہ تعالی کے حضور جو بے حساب اجر وثواب ملے گا حضرت جابرؓ  سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  قیامت کے روز جب مصیبت زدہ لوگوں کو (ان کے صبر کا بدلے بے حساب )  اجروثواب دیا جائے گا تو اس وقت دنیا میں آرام اور سکون کی زندگی گزارنے والے تمنا کریں گے کہ اس دنیا میں ان کی جلد(Skin) قینچیوں سے کاٹ دی جاتی تو آج وہ بھی عنایت  کے حقدار ٹھہرتے(جامع ترمذی)۔

صبر کی اہمیت کے پیش نظر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔(سنن بیہقی)۔ صبر صرف مشکلات پر نہیں ہوتا بلکہ امور اطاعت و فرماں برداری میں بھی صبر ہوتا ہے  ۔اللہ تعالی کے عذاب پر صبر کرنے سے اس کی اطاعت پر صبر کرنا آسان ہے لہذا اسے صبر کی اہمیت اور اس کی صداقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم معاشرے کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔

* قرآن پاک  کا ہے یہ فرمان 
صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے رحمن

زندگی کی مشکلات سے مت پریشان ہوں اے انسان
ایک دن ضرور ہٹ جاے گا مصیبت کا یہ طوفان
 (انشاءاللہ عزوجل) 

Post a Comment

Previous Post Next Post