کیرالہ حکومت نے قوانین بدل کر گورنر عارف محمد خان کو یونیورسٹی چانسلر عہدہ سے دستبردار کیا!

 



کیرالہ حکومت نے پہلے ہی صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ نہیں چاہتی کہ گورنر عارف محمد خان ریاست میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدہ پر رہیں۔


کیرالہ حکومت اور گورنر عارف محمد خان کے درمیان جاری رسہ کشی اپنے عروج پر ہے۔ اس درمیان بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ عارف محمد خان کو کیرالہ کلامنڈلم ڈیمڈ ٹو یونیورسٹی کے چانسلر عہدہ سے دستبردار کر دیا گیا ہے۔ ایل ڈی ایف حکومت نے جمعرات کو کیرالہ کلامنڈلم ڈیمڈ یونیورسٹی کے قوانین میں ترمیم کر اس بات کو یقینی بنایا کہ گورنر عارف محمد خان یونیورسٹی چانسلر عہدہ سے ہٹ جائیں۔ اب اس عہدہ پر آرٹ اینڈ کلچر شعبہ کے کسی معروف شخص کو مقرر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کیرالہ حکومت نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ نہیں چاہتی کہ گورنر عارف محمد خان ریاست میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدہ پر رہیں۔ پینارائی وجین کی قیادت والی کیرالہ حکومت نے آرٹ اینڈ کلچر سے متعلق ڈیمڈ یونیورسٹی کے قوانین میں ترمیم کے لیے حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ حالانکہ کیرالہ کلامنڈلم ویب سائٹ کے مطابق عارف محمد خان اب بھی اس کے چانسلر ہیں۔


کیرالہ حکومت کے ذریعہ یہ قدم ریاست میں وائس چانسلروں کی تقرری سمیت یونیورسٹی کے کام کو لے کر گورنر عارف محمد خان کے ساتھ حکومت کی چل رہی رسہ کشی کے درمیان اٹھایا گیا ہے۔ ڈیمڈ یونیورسٹی کے ترمیم شدہ قوانین میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ کلامنڈلم کا انتظام و انصرام اور مینجمنٹ کی تشکیل ریاستی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کیرالہ کی ہائر ایجوکیشن وزیر آر. بندو نے کہا تھا کہ اگر گورنر عارف محمد خان انھیں ریاست کی یونیورسٹیوں کے چانسلر عہدہ سے ہٹانے کی سہولت والے آرڈیننس پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو ریاستی حکومت آئندہ ماہ اسمبلی اجلاس بلا کر بل لائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ اگر حکومت کی طرف سے جاری آرڈیننس کے کسی بھی پہلو سے گورنر اتفاق نہیں رکھتے ہیں تو حکومت اپنا رخ واضح کرے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post