عقیدہ ختم نبوتؐ کا پیغام گھر گھر تک پہنچانے کی ضرورت ہے!


 

!مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا محفوظ الرحمن فاروقی کا خطاب

بنگلور، 09/نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا محفوظ الرحمن فاروقی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں تمام انبیاء و مُرسلین کے بعد سب سے آخر میں بھیجا اور رسول اللہؐ پر رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم فرمادیا۔ لہٰذاآپ ؐکے زمانے یا آپؐ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت ملنا ناممکن ہے، یہ دین اسلام کا ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ جس کا انکار کرنے والا یا اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کرنے والا کافر و مرتد ہوکر دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبیؐ ہونے پر غیر متزلزل ایمان اور انکے بعد کسی نبی، پیغمبر یا رسول کی آمد کا تصور بھی نہ کرنے کا عقیدہ ہی دراصل وہ


 بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر ایمان کی عمارت کھڑی رہ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہیکہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کی بنیاد ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ قرآن مجید میں سو مقامات پر بہت ہی واضح انداز میں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے۔ اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان حق ترجمان سے اپنی ختم نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہی وجہ ہیکہ چودہ صدیوں سے امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے پیروکار خارج از اسلام اور مرتد ہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ میں جب بھی کسی سر پھرے، طالع آزما یا فتنہ پرداز نے اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرأت کی، مسلمانوں نے اسکو اس کے انجام تک پہنچایا۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب کے فتنے نے سر اٹھایا، جو مدعی نبوت تھا، لہٰذا اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے صدیق اکبرؓ نے ایک لشکر حضرت خالد بن ولید ؓ کی قیادت میں بھیجا، بلآخر اس لشکر نے مسیلمہ کذاب کو شکست دے کر اسے ہلاک کردیا، لیکن کئی سو صحابہ کرام رضوان اللہ


 علیہم اجمعین نے اس جنگ میں جام شہادت نوش فرمائی۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہیکہ اصحاب رسولؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کے اس بنیادی عقیدے کی حفاظت فرمائی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہیکہ مسلمان اس عقیدے کو مضبوطی سے تھامے اور دوسروں کو بھی اسکی تلقین کریں۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں باطل طاقتیں ختم نبوت پر حملہ آور ہیں، بالخصوص فتنہ قادیانیت اور فتنہ شکیلیت ان دنوں کافی سرگرم ہیں، اور بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکہ دیکر یا غریب و دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو پیسوں کا لالچ دیکر اپنے جال میں پھنسانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ایسے حالات میں امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری بنتی ہیکہ وہ عقیدہئ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت

 سے امت مسلمہ کو واقف کروائیں اور اسکا پیغام گھر گھر تک پہنچائیں، نیز مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں اور ان فتنوں سے امت کو بچانے اور ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں، یہ ہر ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔حضرت مولانا محفوظ الرحمن فاروقی صاحب نے فرمایا کہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے ختم نبوت کی حفاظت اور اسکی اہمیت و فضیلت سے امت مسلمہ کو واقف کروانے کیلئے یہ”عظیم الشان پندرہ روزہ تحفظ ختم نبوت“ کانفرنس منعقد کیا۔ اللہ تعالیٰ اسکے اچھے اثرات مرتب فرمائے اور ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمیں قبول فرمائے۔قابل ذکر ہیکہ حضرت والا نے مرکزتحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post