مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ؒکا انتقال ایک عظیم خسارہ اور ایک عہد کا خاتمہ ہے: محمد فرقان


 

!مرکز تحفظ اسلام ہند کا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ؒ کی وفات پر اظہارتعزیت

بنگلور، 23/ نومبر (پریس ریلیز):عا لم اسلام کی ممتاز شخصیت، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ، جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر، مفتی اعظم پاکستان حضرت اقدس مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مورخہ ۲۲/ ربیع الثانی ۴۴۴۱ھ مطابق 18/ نومبر 2022ء بروز جمعہ کی شب اس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے۔انکے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی پورے عالم اسلام پر غم و افسوس کا بادل چھا گیا۔انکے انتقال پر پوری دنیا سے اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔اس موقع پر مولانا مرحوم کے برادر صغیر شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے نام ایک تعزیتی مکتوب میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان نے فرمایا کہ حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک باصلاحیت اور جید الاستعداد عالم دین تھے، آپ دبستان علم و تحقیق کی معزز و

 مؤثر شخصیت، صاحب فہم و بصیرت، فضل و عمل اور خلوص و صداقت کے پیکر، فکر دیوبندیت کے پاسبان اور اکابر علماء دیوبند کے علوم کے عظیم شارح تھے۔ انکی شخصیت تواضع و انکساری، خوش مزاجی و سادگی، تقویٰ و پرہیزگاری، شستہ و شگفتہ اخلاق کی حامل تھی۔انہوں نے فرمایا کہ  مفتی محمد رفیع عثمانیؒ نے نصف قرآن دارالعلوم دیوبند (انڈیا) میں حفظ کیا اور پاکستان میں ہجرت کے بعد آرام باغ کی مسجد باب الاسلام میں حفظ قرآن کی تکمیل کی۔پھر سن 1951ء میں اپنے والد کی قائم کردہ دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخلہ لیا، ان کا شمار دارالعلوم کے اولین طلبہ میں ہوتا تھا۔ پھرانہوں نے سن 1960ء میں عالم، فاضل اور افتاء کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ دارالعلوم کراچی سے ہی تدریس کا آغاز کیا۔ دارالعلوم میں تدریس کی عظیم مسند پر جلوہ افروز ہو تے ہی مفتی صاحب علمی ضیا پاشی میں مصروف ہوگئے، اور اس ذمہ داری کو نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے نبھایا۔ پھرسن 1971ء میں دارالافتاء اور دارالحدیث کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اور سن1976ء میں اپنے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب ؒکے انتقال کے بعد دارالعلوم کراچی کا انتظام سنبھالا اور انکی لازوال قربانیوں اور جہد مسلسل کا نتیجہ ہیکہ دارالعلوم کراچی پورے عالم اسلام میں اپنی کرنیں بکھیر رہا ہے، اور ان شاء اللہ تا صبح قیامت اس ادارے کا فیضان جاری رہے گا، جو حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کیلئے صدقہ جاریہ ہے۔محمد فرقان نے فرمایا کہ فقہ ظاہر میں ممتاز مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مفتی اعظم پاکستان فقہ باطن میں بھی بہت اہتمام سے مشغول رہے، چنانچہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے خلیفہئ خاص عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفیؒ سے انکا اصلاحی تعلق رہا اور وہ انکے ممتاز خلفاء میں سے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ اعلیٰ درجے کی ادبی اور تحریری صلاحیتوں سے مالا مال بھی تھے، محتاط قلم کے مالک اور صاحب طرز مصنف تھے، انکی تصنیف کردہ کتابوں کو عالم اسلام میں کافی مقبولیت حاصل تھی۔مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ مفتی صاحب شگفتہ مزاج، ہشاش بشاش اور ظریفانہ طبیعت کے مالک تھے، اعتدال و توسط، وقار ومتانت، حسنِ انتظام اور نفاستِ طبع، مردم شناسی اور اہلیت کی قدردانی، اصول و قوانین کی پاسداری، اصابتِ رائے اور فکری استقلال انکی امتیازی خصوصیات تھیں، ہر شعبے میں اتباعِ سنت کا اہتمام، ورع وتقویٰ اور بطورِ خاص حقوق العباد اور مالی معاملات میں انکا تقوی گفتن کے بجاے دیدن سے تعلق رکھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حضرت مفتی صاحبؒ جہاں جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر علی قدر تھے وہیں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ اور پاکستان کے مفتی اعظم بھی تھے۔ انکی پوری زندگی ملت کی خدمت سے عبارت تھی۔ وہ علم و عرفان کے حسین سنگم تھے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین و اسلام کی خدمت کیلئے وقف کردی تھی۔ انکا شمار ان بزرگ ترین ہستیوں میں ہوتا ہے جنکے دینی و علمی خدمات سے تاریخ کے بے شمار باب روشن ہیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کے حضرت مفتی محمد رفیع عثمانیؒ کے اس طرح سے اچانک پردہ فرما جانے سے ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے بالخصوص پاکستان ایک متوازن افکار و نظریات کے حامل معتدل، بلند پایہ فقیہ اور مفتی سے محروم ہوگیا۔ انکا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رنج و ملال کے موقع پر ہر ایک تعزیت کا مستحق ہے، لہٰذاوہ اپنی جانب سے اور مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے عموماً پوری ملت اسلامیہ کے خصوصاًشیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور مولانا مرحوم کے تمام محبین، مریدین، متعلقین اور تلامذہ نیز جملہ پسماندگان کے غم و افسوس میں برابر شریک ہیں اور تعزیت مسنون پیش کرتے ہیں۔ اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرماتے ہوئے انکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور انکے نہ رہنے سے جو کمی ہوئی ہے اسکی تلافی فرمائے، اسکا نعم البدل عطاء فرمائے۔ نیز مرحوم کو جوار رحمت اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

Post a Comment

Previous Post Next Post