کرناٹک: نابالغوں کی عصمت دری کے ملزم لنگایت مٹھ کے سنت کے خلاف فرد جرم داخل

 



کرناٹک پولیس نے عصمت دری کے ملزم لنگایت مٹھ کے سنت شیومورتی مروگا شرنارو کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی۔ پولیس نے ہاسٹل وارڈن رشمی اور ایک اور ملزم پرم شیوایا کے خلاف بھی الزامات عائد کئے ہیں


بنگلورو: کرناٹک پولیس نے ایک اہم پیش رفت میں پیر کو کہا کہ جیل میں قید عصمت دری کے ملزم لنگایت سنت شیومورتی موروگا شرنارو کے خلاف تحقیقات کے دوران الزامات کو برقرار رکھا گیا ہے۔ چتردرگا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پرشورام نے کہا کہ کلیدی ملزم کے ساتھ خاتون ہاسٹل کی وارڈن رشمی اور ایک اور شخص پرم شیوایا کے خلاف بھی الزامات برقرار رکھے گئے ہیں۔

پولیس اب ایک نابالغ اور پانچویں ملزم گنگادھریا کے خلاف ثبوت تلاش کر رہی ہے۔ ایس پی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے 27 اکتوبر کو عدالت میں چارج شیٹ پیش کی تھی۔ دوسرے کیس کے حوالے سے متاثرین کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے ہیں۔ متاثرین کے والدین نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم سنت کو پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا تھا اور اس کیس کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

پولیس نے متاثرہ لڑکیوں کے بیانات کی بنیاد پر دیگر لڑکیوں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔ لنگایت سنت پر 15 سے زیادہ لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا الزام ہے۔ ایس پی پرشورام نے کہا کہ پولیس نے ’اودانادی‘ این جی او کے بانی اسٹینلے سے اس سمت میں مزید معلومات طلب کی تھیں۔ پولیس نے ان سے تفصیلات بتانے کی درخواست کی ہے اور انہیں مشترکہ تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔

ملزم سنت کے ذریعہ مٹھ میں بدسلوکی کے خلاف احتجاج کرنے والی نابالغ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے الزام پر ایس پی نے کہا کہ پہلے کیس کے متاثرین نے کہا ہے کہ ایک لڑکی کی عصمت دری اور قتل کیا گیا تھا۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکی کی موت آندھرا پردیش کے ہندو پور ریلوے اسٹیشن علاقے میں ٹرین سے گرنے کی وجہ سے ہوئی۔ کیس کو حادثاتی موت قرار دے کر بند کیا جا رہا ہے۔

پرشورام نے کہا کہ پولیس مٹھ میں منشیات کے استعمال کے الزامات کی بھی جانچ کر رہی ہے اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔ طبی معائنے سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم سنت جنسی زیادتی کے قابل ہے۔ سنت کے خلاف پوکسو اور ایس سی / ایس ٹی مظالم کا پہلا مقدمہ 26 اگست کو درج کیا گیا تھا۔ اسی طرح کی دفعات کے تحت دوسرا مقدمہ 13 اکتوبر کو درج کیا گیا تھا۔ ملزم سنت کو یکم ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

وہیں، ملزم سنت نے چتردرگا مٹھ کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایک وفد نے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی سے ملاقات کی اور نئے ہیڈ پجاری کی تقرری پر تبادلہ خیال کیا۔ مٹھ کے اندر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم سنت کا مٹھ پر مکمل کنٹرول ہے اور تمام فیصلے وہی لے رہا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post