”نوجوان نسل کو ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!“


 

مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانامحمد مقصود عمران رشادی کا خطاب

بنگلور، 17/ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی نویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولاناڈاکٹر محمد مقصود عمران صاحب رشادی مدظلہ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں کا یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ؐ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ نبی کریم ؐ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن مجید کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ”محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور آخری نبی ہیں“۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا ہے کہ آپؐہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ مولانا نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک، جھوٹے دجالوں کا خروج ہے۔ یہ ایسے لوگ ہوں گے جو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے اور اپنے جھوٹ سے لوگوں کے درمیان فتنے کو ہوا دیں گے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ان کی تعداد تیس ہوگی۔ آپؐ نے فرمایا کہ ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے دجال نکل جائیں (وہ سب کے سب) ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت کے دشمن اس طاق میں بیٹھے ہیں کہ وہ کس طرح اسلامی شعائر اور ہمارے عقائد پر حملہ آور ہو سکے، مسیلمہ کذاب سے لیکر مرزا قادیانی تک ہر زمانے میں نبوت پر ڈاکہ زنی کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن الحمدللہ ختم نبوت کے محافظوں نے ختم نبوت کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور آج تک اسی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اسلام مخالف طاقتیں آج نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں، وہ فروعی اختلافات کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کر کے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر قادیانی اور اس کے متبعین اس قطعی اور اجماعی مسئلہ میں خلاف و شقاق کا دروازہ کھولنے کی پر زور کوشش کررہے ہیں اور عوام کی جہالت اور مغربی تعلیم سے متاثر اور دینی تعلیم سے بیگانہ افراد کی ناواقفیت سے نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مسئلہ میں طرح طرح کے اوہام وشکوک ان کے دلوں میں پیدا کرکے انکو گمراہ کرنے کی دن رات سازشیں کررہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ان حالات میں فتنوں بالخصوص جھوٹے مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت کے فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو اُن سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو اُن سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ مولانا رشادی نے فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہیکہ پوری امت مسلمہ بالخصوص نوجوان نسل کو ختم نبوت کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے، ان کے دلوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت، عشق رسول اور بالخصوص عقیدہ ختم نبوت کو واضح کرنا چاہئے۔ آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والے ایک ہوکر ختم نبوت کے حصار کو مضبوط کریں کیونکہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو آپ کا دین محفوظ ہے اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو آپ کا دین بھی محفوظ نہیں۔ قابل ذکر ہیکہ یہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی نویں نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب کی دعا سے کانفرنس کی یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post