عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور فتنہ قادیانیت کا تعاقب امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے!


 

!مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مفتی محمدشفیق احمد قاسمی کا خطاب

بنگلور، 24/نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی دسویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا، اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہی عقیدہ ختم نبوت ہے، جو اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اور اسکے منکر اسلام سے خارج اوراسکے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ منکرین ختم نبوت کا فتنہ آپ ؐکے دور ہی میں شروع ہوگیا تھا، جہاں آپ ؐنے اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا، وہیں آپ ؐ نے قیامت تک نمودار ہونے والے ان کذابین کا بھی تذکرہ فرمایا تھا میرے بعد تیس جھوٹے کذاب پیدا ہونگے اور ہر ایک دعویٰ نبوت کرے گا لیکن میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔مولانا نے فرمایا کہ انہی میں سے ایک فتنہ ”قادیانیت کا فتنہ“ہے، جسکا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جسکی جھوٹی نبوت کا

 فتنہ چودھویں صدی کا عظیم فتنہ ہے، جسے انگریز نے اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی خاطر جنم دیا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ہمارے اکابر علماء کرام نے مرزا قادیانی کی زندگی سے ہی اس کا تعاقب شروع کردیا تھا جو ابتک جاری ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ جاری رہے گا، ان اکابرین نے اس فتنہ کے سدباب اور تدارک کے لیے تاریخ ساز خدمات انجام دئیے اور اس سلسلہ میں بالواسطہ وبلاواسطہ آگے آنے والوں کے لیے نمونہ عمل چھوڑا۔مولانا نے فرمایا کہ بحیثیت مسلمان ہر ایک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر طریقہ سے اس فتنہ کا تعاقب کرے، اور اس فتنہ کے تعاقب، سدباب اور سرکوبی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے۔کیونکہ قادیانی اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جھوٹی نبوت کی تشہیر پورے زوروں سے جاری ہے اور مسلمان کو مختلف ہتھکنڈوں سے قادیانی بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداد قادیانیوں کی ناپاک سازشوں سے بالکل ناواقف ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہیکہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت کو لوگوں

 کے سامنے لائیں۔مفتی شفیق احمد قاسمی نے فتنہ قادیانیت کی حقیقت کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا کا نام غلام احمد والد کا نام غلام مرتضی، آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور پنجاب ہے، اسکی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر مرزا قادیانی کے صرف حسب و نصب پر ہی روشنی ڈالی جائے تو اسکے جھوٹ کا پردہ فاش ہوجائے گا، کیونکہ وہ اپنی اصل ونسل کے بارے میں متضاد بیانات دیتا رہا اور کسی ایک نسل یا خاندان پر اکتفا نہیں کیا۔ مولانا نے مرزا قادیانی کی تحریروں کی روشنی میں ارشاد فرمایا کہ مرزا قادیانی اس حد تک تضاد بیانی کا شکار تھا کہ کبھی وہ اپنے آپکو مغلوں کی شاخ برلاس کہتا تھا، تو کبھی فارسی الأصل ہونے کا دعویٰ کرتا اور جب طبیعت اس پر بھی اکتفا نہیں کرتی تو بیک جنبشِ قلم خود کو اسرائیلی اور فاطمی بھی قرار دینے لگا، پھر کبھی چینی تو کبھی مہدی بننے کے چکر میں بنی فاطمہ

 ہونے کا دعویٰ کرتا، حد تو یہ ہیکہ اس نے ہندو، سکھ آریوں کا پاشاہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ یہ بات مسلَّم ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے روحانی اور جسمانی قویٰ بالکل بے عیب اور عام لوگوں کے قویٰ سے مضبوط ممتاز اور برتر ہوتے ہیں ہاں انہیں بتقاضہ بشریت عارضی طور پر بعض بیماریاں مثلا ًبخار، سر درد وغیرہ لاحق ہوسکتیں ہیں لیکن ایسا نہ ہوگا کہ انبیاء کرام علیھم السلام ایسے موذی امراض میں مبتلا ہوں جو انہیں قبر تک پہنچا دیں اس کے برعکس مرزا قادیانی بیسیوں بیماریوں کا مجموعہ تھا اور ابتدائے عمر ہی سے مالیخولیا کا مریض تھا اور 1908ء میں ہیضہ میں مبتلا ہوکر نہایت عبرت ناک موت مرگیا۔ مولانا نے مرزا قادیانی کے دعوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی نے 1880 ء میں اپنے ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، 1881ء میں خود کو بیت اللہ قرار دیا، 1882ء میں مجدد ہونے کا، 1891 ء میں مسیح موعود ہونے کا، 1898ء میں مہدی ہونے کا 1899 ء میں ظلی بروزی نبی ہونے کا اور 1901ء میں باقاعدہ نبوت کا دعویٰ

 کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ میں بہت سے جھوٹے مدعی نبوت گزرے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم مدعی ایسے ہیں جن کے دعوؤں کی تعداد دو یا تین سے متجاور ہو ہاں البتہ مرزا قادیانی اس میدان میں بھی سب سے جدا ہے، مرزا قادیانی نے اس کثرت سے دعوے کیے ہیں کہ اُن کا شمار ایک عام آدمی کے لیے بالکل محال ہے اور پھر دعوے بھی اتنے مضحکہ خیز ثناقض اور متضاد ہیں کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مرزا قادیانی جاندار ہے یا بے جان، انسان ہے چھلاوہ، مرد ہے یا عورت، مسلمان ہے یا ہندو، مہدی ہے یا مسیح، ولی ہے یا نبی۔ اسکے دعوؤں کو سن کر ایک عام انسان بھی یہ فیصلہ کرسکتا ہیکہ یہ کتنا بڑا جھوٹا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس کے دعوؤں کی طرح اسکی ہر پیشنگوئیاں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔مولانا نے فرمایا کہ 1893ء میں عیسائی پادری عبداللہ آتھم سے مناظرہ میں شکست کھانے کے بعد مرزا قادیانی نے پیشنگوئی کی کہ 5 /ستمبر 1894ء کو آتھم مر جائے گا لیکن دنیا گواہ ہے کہ وہ پادری اس دن کے بعد بھی عرصہ دراز تک صیح سلامت موجود رہا۔

 اسی طرح مرزا قادیانی نے خدا کے نام سے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی بار بار کی اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنی سزا خود تجویز کی، جبکہ محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان محمد سے ہوگئی، اس پر مرزا قادیانی نے سلطان محمد کے بارے میں بھی پیشگوئی کی کہ وہ ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مرزا قادیانی کی 1908ء میں موت آ گئی اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا، مرزا سلطان محمد کے محمدی بیگم سے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ جو مرزا قادیانی کے کذب کی چلتی پھتی تصویریں تھے۔ مرزا قادیانی اس کی موت کو تقدیر مبرم کہتا تھا مگر مرزا کی اپنی تقدیر بدل چکی تھی نہ محمدی بیگم مرزا کی زندگی میں بیوہ ہوئی اور نہ مرزا کے نکاح میں آئی۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اسی طرح حضرت مولاناثناء اللہ امرتسریؒ کے بارے میں ایک تحریر میں اس نے پیشنگوئی کی کہ مجھے آپ مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں، لہٰذا اگر میں ایسا ہی ہوں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا اور اگر نہیں تو آپ طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریوں سے میری زندگی میں ہلاک ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ


 تاریخ گواہ ہیکہ اس پیشگوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ”آخری فیصلہ“کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں بقول اس کے ”خدائی ہاتھوں کی سزا“سے یعنی ہیضہ میں مبتلا ہوکر ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ ویسے تو مرزا قادیانی نے بہت ساری پیشنگوئیاں کی تھی جن میں سے بطور نمونہ چند پیشگوئیاں آپ احباب کے سامنے پیش کی ہیں، جن کو سن کر ہر صاحب عقل انسان مرزا قادیانی کی حقیقت کو جان سکتا ہے۔ بالخصوص وہ لوگ جو مرزا قادیانی کو، مجدد، مہدی، مسیح اور نبی مانتے ہیں ان کے لیے یہ ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہیکہ وہ مرزا کے اقوال کو پڑھیں اور افعال کی طرف بھی دیکھیں کیا اتنا بڑا جھوٹا انسان جو شرابی بھی ہو او ر زنا بھی کرتا ہو۔ مجدد، مہدی، مسیح اور نبی بننا تو بہت دور کی بات ہے،کیا ایک اچھا انسان کہلوانے کے بھی قابل ہے؟ مولانا نے فرمایا کہ مرزائی مسلمانوں کے ذہنوں میں حضرت مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ اسلام کے مسائل محض اس لیے ڈالتے

 ہیں کہ مسلمان عوام مرزا قادیانی کی اس قسم کی باتوں پر غور نہ کریں اور نہ ان کو زیر بحث لائیں اور مرزا قادیانی کے ان تھوک جھوٹوں پر پردہ پڑا رہے۔ جبکہ ایک سادہ لوح مسلمان کیلئے قادیانیت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ مرزا قایانی کی حالات زندگی اور اسکی پیشگوئیوں پر غور کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہیکہ اس فتنہ قادیانیت کی حقیقت کو لوگوں تک پہنچانے کی فکر کریں، اسکی حالات زندگی اور جھوٹی پیشنگوئیوں سے لوگوں کو واقف کروائیں، اس فتنہ کے تعاقب اورردنیز ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ جتنا ہوسکے کام کریں۔قابل مبارکباد ہیں مرکز تحفظ اسلام ہند کے ذمہ داران نے انہوں نے”پندرہ روزہ عظیم الشان تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ منعقد کرکے ان کاموں کا بیڑا اٹھایا ہے، اللہ تعالیٰ انکی کوششوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پردارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق احمد قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post