رام نگر سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مثالی خدمات!



متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی مختلف مراحل میں بڑی امداد

بنگلور، 15/ نومبر (پریس ریلیز): گزشتہ دنوں ریاست کرناٹک کے ضلع رام نگر کے سینکڑوں افراد موسلا دھار بارش اور سیلاب کی زد میں آگئے، جس کی وجہ سے وہاں نظام زندگی تتر بتر ہوگئی تھی، روز مرہ کماکر زندگی بسر کرنے والے چھوٹے موٹے کام و کاج کرنے والے اور مزدور بہت زیادہ متاثر ہوئے، جنکا سب کچھ سیلاب میں بہہ گیا۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ کے حکم پر جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے ضلع رام نگر میں موسلا دھار بارش اور سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کا عمل بلا تفریق مذہب بڑے پیمانے پر مسلسل جاری تھا۔ اسی ضمن میں گزشتہ روز جمعیۃ علماء کرناٹک


 کے ریاستی وفد نے چوتھے مرحلے میں مزید 12/ متاثرہ افراد کو نئے گھر میں منتقل ہونے کیلئے 25-25/ہزار روپیہ کی رقم کی چیک دی۔ اور حسب وعدہ جن متاثرہ افراد کو پہلے مرحلے میں اڈوانس کیلئے رقم دی گئی تھی انہیں جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے ایک ماہ کے کرایہ کی رقم بھی ادا کی گئی۔ جس پر سیلاب متاثرین نے جمعیۃ علماء کرناٹک کا شکریہ ادا کیا اور خوب دعاؤں سے نوازا۔ واضح رہے کہ ریاستی وفد کی ابتدائی سروے رپورٹ کے فوری بعد جمعیۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی سید معصوم ثاقب صاحب قاسمی مدظلہ کی زیر نگرانی پہلے مرحلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے سینکڑوں متاثرین کے درمیان ضروریات زندگی کا سامان تقسیم کیا، اور اسی کے ساتھ 23/ متاثرہ افراد جنکا گھر اور پورا ساز و سامان سیلاب

 کی زد میں آگیا تھا، انہیں 25/ ہزار روپیہ کی رقم کی چیک دی گئی تھی تاکہ وہ کسی نئے گھر میں منتقل ہوسکیں۔ پھر دوسرے مرحلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے اس موسلا دھار بارش اور سیلاب سے متاثرہ ایسے 350/افراد کے درمیان گھریلو ساز و سامان تقسیم کیا، جنکا اس قیامت خیز سیلاب میں سب کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ تیسرے مرحلے میں 10 /تباہ کن مکانات کی مرمت کا کام مکمل کراکر ان کے مالکان کے حوالے کیا گیا نیز مزید 100/ افراد کے درمیان گھریلو ساز و سامان تقسیم کیا گیا۔ اب چوتھے مرحلے میں پھر جمعیۃ علماء کرناٹک نے ان متاثرین کیلئے بڑا تعاون پیش کیا ہے۔ قابل ذکر جمعیۃ علماء کرناٹک روز اول سے رام نگر سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کیلئے مسلسل سرگرم رہی، سروے سے لیکر گھریلو سامان کی تقسیم اور

 تعمیرات نو سے لیکر نئے گھروں کے انتظامات تک جمعیۃ علماء کرناٹک کے کارکنان نے دن رات محنتیں کیں، مشقتیں اٹھائیں، اور اپنی ترجیحات میں سیلاب متاثرین کی آباد کاری اور بحالی کے کاموں کو اولیت دی۔ کیونکہ خدمت خلق نہ صرف قرب خداوندی کا ذریعہ ہے بلکہ ایمان کا ایک اہم ترین شعبہ ہے اور مفلوک الحال اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا ہی مومن کی علامت ہے۔یہی وجہ ہیکہ خدمت خلق جمعیۃ علماء ہند کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ مخلوق خدا کی خدمت کرنا، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو، جمعیۃ علماء کا فریضہ ہے۔ جس پر جمعیۃ علماء کے کارکنان سختی سے عمل پیرا ہیں۔واضح رہے کہ سیلاب متاثرہ علاقہ رام نگر میں امداد کی تقسیم کے موقع پر جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی، جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین، جمعیۃ علماء بنگلور کے صدر مولانا محمد صلاح الدین قاسمی، جمعیۃ علماء کرناٹک کے اراکین حسین احمد خان عرف سردار، مولانا عبد الرزاق اور محمد فرقان وغیرہ خصوصی طورپرشریک تھے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post