بی جے پی کا تلنگانہ میں بھیجا گیا ’شندے ماڈل‘ ہم نے مسترد کر دیا، کے سی آر کی بیٹی کا دعویٰ


 


وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی کے کویتا نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے انہیں تلنگانہ میں 'شندے ماڈل' کی تجویز بھیجی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا


حیدرآباد: وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی بیٹی کے کویتا نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے انہیں تلنگانہ میں 'شندے ماڈل' کی تجویز بھیجی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کی رکن کویتا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بی جے پی کے دوستوں نے اس تجویز کے ساتھ ان سے رابطہ کیا تھا۔ 'شندے ماڈل' مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی قیادت میں شیوسینا میں بغاوت کا حوالہ ہے، جو بعد میں وزیر اعلیٰ بنے تھے۔

کویتا نے کہا، ''میرے پاس بی جے پی کے دوستوں اور بی جے پی کی ہم خیال تنظیموں کی طرف سے تجویز پیش کی گئی تھی کہ میں ان کی پارٹی میں شامل ہو جاؤں۔ اس تجویز کو شندے ماڈل کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ تلنگانہ کے لوگ اپنی پارٹیوں اور اپنے قائدین سے غداری نہیں کرتے۔ ہم پچھلے دروازے سے نہیں بلکہ اپنی طاقت سے لیڈر بنیں گے۔‘‘


انہوں نے کہا کہ ہم نے انتہائی شائستگی سے ان کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے بعد وہ کیا کرتے ہیں وہ الگ کہانی ہے۔ ہم عوامی زندگی میں ہیں۔ ہم ہمیشہ لوگوں کے درمیان ہیں اور ہم ان کا سامنا کریں گے۔ کویتا نے کہا کہ دو دن قبل کے سی آر نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے قائدین کی میٹنگ میں انکشاف کیا تھا کہ بی جے پی نے انہیں پالا بدلنے کا لالچ دیا تھا۔ وہیں، بی جے پی قائدین نے کے سی آر کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے کہا کہ اگر کے سی آر بی جے پی میں شامل ہونا بھی چاہیں تو بھی پارٹی انہیں قبول نہیں کرے گی۔ نظام آباد سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے ایک ٹوئٹ میں کہا، "ہم ایسی پارٹی نہیں ہیں جو شراب کے کاروبار میں ملوث ہو، اس لیے ہمارا کے سی آر کی اولادوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔"

Post a Comment

Previous Post Next Post