’نوٹ بندی چھوٹے کاروباریوں اور کسانوں پر حملہ تھا‘، بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی کا خطاب

 



راہل گاندھی نے کہا کہ ’’نوٹ بندی کے بعد غلط جی ایس ٹی نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے کسان، چھوٹے بزنس والے، چھوٹے دکاندار، جو روزگار فراہم کرتے ہیں، یہ سبھی تباہ ہو گئے، ختم ہو گئے۔‘‘


راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا پیر کے روز ہی مہاراشٹر پہنچ چکی ہے اور آج انھوں نے بھارت یاتریوں کے ساتھ اس یاترا کو مزید آگے بڑھایا۔ ناندیڑ ضلع میں آج صبح راہل گاندھی نے گرو نانک دیو جی کی جینتی پر یادگری صاحبزادے بابا جوراور سنگھ جی فتح سنگھ جی گرودوارہ پہنچے۔ اس دوران راہل گاندھی سکھوں کی پگڑی میں نظر آئے۔ بعد ازاں انھوں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کیا جہاں نوٹ بندی کے 6 سال مکمل ہونے کے پیش نظر مودی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انھوں نے ناندیڑ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچائی یہ ہے کہ نوٹ بندی بلیک منی کو ختم کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ چھوٹے کاروباری او رکسانوں پر حملہ تھا۔ اس کا نتیجہ آج تک ملک کے ہر غریب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد غلط جی ایس ٹی نافذ کر دیا گیا جس کی وجہ سے اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی کو تباہ کر دیا گیا۔‘‘

آج جلسہ عام سے اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے سب سے پہلے آنجہانی کانگریس لیڈر کرشن کانت پانڈے کو یاد کیا جو بھارت جوڑو یاترا کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کرشن کانت پانڈے جی نے یاترا کے دوران اپنی جان دی، یہ بات کانگریس پارٹی اور ہم کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ہم نے سوچا تھا کہ ہمارے جو بھارت یاتری ہیں، سب کے سب آخر تک ساتھ رہیں گے، لیکن افسوسناک ہے کہ ہمارے ایک پیارے ساتھی ہمارے ساتھ سری نگر تک نہیں پہنچ پائے، لیکن جو ان کی سوچ ہے وہ ہمارے ساتھ چلے گی اور وہ سری نگر تک پہنچے گی۔‘‘

نوٹ بندی کے چھ سال مکمل ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آپ کو یاد ہوگا، کچھ سال قبل، اسی دن نریندر مودی جی نے نوٹ بندی کی تھی۔ 8 بجے رات کو نریندر مودی جی ٹی وی پر آئے اور انھوں نے کہا کہ میں 500 روپے اور 1000 روپے کے نوٹ کو رد کرنے جا رہا ہوں اور کالے دھن کے خلاف میں لڑائی لڑ رہا ہوں۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں ’’سچائی یہ تھی کہ نوٹ بندی کالے دھن کو مٹانے کے لیے نہیں کی گئی تھی۔ نوٹ بندی ہمارے چھوٹے کاروباری، اسمال اور میڈیم بزنس چلانے والے اور کسانوں پر حملہ تھا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’نوٹ بندی کے بعد انھوں نے غلط جی ایس ٹی نافذ کر دیا اور ان دو پالیسیوں نے جو ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو اس ملک کو روزگار دلواتی ہے، کسان، چھوٹے بزنس والے، چھوٹے دکاندار... ان سب کو تباہ کر دیا، ختم کر دیا۔‘‘

پنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے بی جے پی پر ملک کو توڑنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ کیسے محب وطن ہیں جو ملک میں نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے لڑا رہے ہیں۔ ایک زبان کو دوسری زبان سے لڑا رہے ہیں۔ ایک ذات کو دوسری ذات سے لڑا رہے ہیں۔ ایک مذہب کو دوسرے مذہب سے لڑا رہے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ محب وطن ہیں۔ کون سے ملک کے بھکت ہیں یہ؟‘‘

بہرحال، 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیاکماری سے شروع ہوئی بھارت جوڑو یاترا طویل سفر کے بعد مہاراشٹر میں داخل ہوئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر میں یہ یاترا 14 دن چلے گی اور 15 اسمبلی حلقوں کے ساتھ ساتھ 6 پارلیمانی حلقوں سے ہو کر گزرے گی۔ اس یاترا میں این سی پی اور شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے کئی سرکردہ لیڈران کے شرکت کرنے کی بھی امید ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post