”عقیدہ ختم نبوتؐ دین اسلام کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے!“


 

!مرکز تحفظ اسلام ہند کے عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ سے مولانا ابو طالب رحمانی کا خطاب

بنگلور، 14/ نومبر (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد پندرہ روزہ عظیم الشان آن لائن ”تحفظ ختم نبوتؐ کانفرنس“ کی آٹھویں نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن خطیب بے باک حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب مدظلہ نے فرمایا دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی، کوئی رسول نہ آیا ہے، نہ آ سکتا ہے اور نہ آئے گا، اس عقیدے سے انکار کرنے والا یا اس میں ذرا برابر شک اور تردّد کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

 کیونکہ نبوت آپؐ پر ختم ہو گئی ہے اور آپ ؐکی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی، حتیٰ کہ جب قرب قیامت حضرت عیٰسی علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ بھی بحیثیت امتی نازل ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شریعت پر عمل پیرا ہونگے۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اس پر ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ عقیدہ کئی آیات مبارکہ اور سینکڑوں احادیث شریفہ سے ثابت ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ امت کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی پر منعقد ہوا، یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں

 مشکوک اور مشتبہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس پر بحث کی ضرورت سمجھی گئی بلکہ ہر دور میں متفقہ طور پر اس پر ایمان لانا ضروری سمجھا گیا۔ مولانا نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت کی نزاکت وحساسیت کا اندازہ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒکے اس قولِ مبارک سے بھی ہوتا ہے، جس میں کسی کا خود دعویٰ نبوت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، کسی دوسرے شخص کا نبی کریمﷺ کے بعد مدعی نبوت سے اپنے دعویٰ کے متعلق دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے، چنانچہ حضرت امام اعظم ؒفرماتے ہیں کہ ”جو شخص حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے وہ تو کافر ہے ہی اور جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ نبی کریمﷺنے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ دور حاضر میں خاص طور ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت سے امت

 مسلمہ کو واقف کروانا بہت ضروری ہے کیونکہ قادیانیت جیسے فتنے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کررہی ہیں، وہ لوگ مسلمانوں کے درمیان بڑے زور سے کہتے ہیں کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے ہیں جسے سن کر عام مسلمان انکے جال میں پھنس جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہیکہ یہ لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تو مانتے ہیں لیکن آخری نبی نہیں مانتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدے پر کھڑی ہے۔ کیونکہ اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ دائرہ اسلام

 بھی خارج ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہیکہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کریں، عقیدہئ ختم نبوتؐ کی اہمیت و فضیلت کو انکی رگ رگ میں بسا دیں اور فتنہ مدعیان نبوت و منکرین ختم نبوت سے امت مسلمہ کو آگاہ کریں تاکہ دوسرے لوگ ان فتنوں سے واقف رہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔ مولانا نے فرمایا تحفظ ختم نبوت ایک بڑا حساس مسئلہ ہے، اس موضوع پر کام کرنا اور اس کے دفاع کرنا اور ختم نبوت کی حفاظت کرنا یہ ایمانی فریضہ ہے کیونکہ یہی عقیدہ امت مسلمہ کو وحدت کی ایک لڑی میں پروتا ہے اور اسی منصب ختم نبوت کی برکت سے قرآن مجید آخری آسمانی کتاب، امت محمدیہؐ آخری امت اور دین اسلام آخری دین ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں  سے نوازا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post