نصف دھڑ والا قطری میزبان فٹ بال مقابلوں میں توجہ کا مرکز بن گیا


 

دوحہ، 22نومبر :(ایجنسیاں)پوری دُنیا کی نظریں فٹبال کے سب سے نمایاں عالمی ایونٹ کی طرف نہ صرف لگی ہوئی تھیں بلکہ وہ ایک ایسے قطری نوجوان پر جمی ہوئی تھی جو اپنی شخصیت، روانی سے فتح حاصل کرنے کے بعد سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا چرچا بن گیا۔ ورلڈ کپ کے آغاز پر اس کے عزم اور استقامت کو انٹرنیٹ پر سلام پیش کیا گیا۔غانم المفتاح جو کہ مشہور امریکی اداکار مورگن فری مین کے ساتھ نظر آئے، نے دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، خاص طور پر چونکہ وہ ایک نایاب بیماری میں مبتلا ہیں جس کے ساتھ وہ پیدا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کے دھڑ کی نشو ونما رک گئی تھی۔

نوجوان نے تقریب میں قرآن پاک کی ایک آیت کی تلاوت کر کے اپنی گفتگو آغاز کیا۔ پھر اس نے اپنی کہانی تفصیل سے سنائی، کیونکہ اس نے معذوری کو چیلنج کرنے کی ایک مضبوط مثال کے طور پر بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ 5 مئی 2002 کو پیدا ہوئے۔ وہ پیدائشی ایک نایاب عارضے کا شکار تھے۔ یہ ایک نایاب عارضہ ہے جو جسم کے نچلے حصے کی نشوونما میں مسائل کا باعث بنتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میں نے اس معذوری کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ اسے مسلسل علاج کی ضرورت تھی اور اس کی بیماری اس کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن وہ صبر اور مثبت سوچ کے کے ساتھ اس پر قابو پانے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی والدہ سے سیکھا کہ ناممکن جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی معذوری کو چیلنج نہیں کیا بلکہ زندگی میں اس کے ساتھ بڑی امید کے ساتھ جیا۔غانم نے اس بات پر زور دیا کہ معذور افراد معاشرے میں دینے کے قابل ہیں اور وہ فعال ہیں، جو ایک پیغام ہے جس کا وہ پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ آئس اسکیٹنگ، کوہ پیمائی، فٹ بال، تیراکی،باسکٹ بال اور تیراکی جیسے کھیل کھیلتے ہیں اور وہ اپنی بیماری کے باوجود سمندر میں 18میٹر تک کامیابی سے غوطہ زن ہو چکے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post