آسام: ملزم کے گھر چلا بلڈوزر، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا- ’اس طرح تو ملک میں کوئی محفوظ نہیں رہے گا!‘

 



ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس افسر چاہے کتنا ہی سینئر کیوں نہ ہو اسے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح کی من مانی کی گئی تو ملک میں کوئی محفوظ نہیں رہے گا


گوہاٹی: بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں الزام ثابت ہوئے بغیر ملزمان کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی خبروں کے درمیان گوہاٹی ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں جو مشاہدہ کیا ہے وہ تمام ریاستوں کے لیے ایک نظیر ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ تحقیقات کے بہانے بغیر اجازت کسی کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلایا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر پولیس کی ایسی کارروائی جاری رہی تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

یہ معاملہ ناگاؤں ضلع میں آتشزدگی کے واقعہ سے جڑا ہے۔ ہائی کورٹ نے ملزم کے گھر کو مسمار کرنے کا ازخود نوٹس لیا اور چیف جسٹس آر ایم چھایا اور جسٹس سومترا سیکیا کی بنچ نے سماعت کے دوران اہم تبصرہ کیا۔ بنچ نے سرکاری وکیل سے کہا کہ وہ ایسا فوجداری اصول دکھائیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ پولیس بغیر کسی حکومت کے تفتیش کے لئے کسی کا گھر تباہ یا بلڈوز کر سکتی ہے۔

ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ملزم کے گھر کی تلاشی کے لیے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت ملی تھی۔ اس پر چیف جسٹس چھایا نے کہا کہ اجازت تلاشی کے لئے دی گئی تھی، بلڈوزر چلانے کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسر چاہے کتنا ہی سینئر کیوں نہ ہو اسے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی من مانی ہوئی تو ملک میں کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ایس پی کسی بھی ضلع کا ہو، چاہے وہ آئی جی، ڈی آئی جی، آئی اے ایس افسر یا ڈی جی پی ہو، انہیں قانون کے دائرے سے گزرنا ہوگا۔ صرف اس لیے کہ وہ محکمہ پولیس کا سربراہ ہے، وہ کسی کا گھر نہیں گرا سکتا۔ ہمیں قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس چھایا یہیں نہیں رکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام ہندوستانی ایک جمہوری نظام میں رہتے ہیں۔ ایسے میں پولیس یا انتظامی افسر تفتیش کی آڑ میں اجازت لیے بغیر کسی کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلا سکتے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post